رسائی کے لنکس

logo-print

ایشیائی طلبہ میں سائنس میں کیرئیر بنانے کا رجحان


سائنس پڑھنے اور مستقبل میں سائنس کی فیلڈ کو بطور کیرئیر اپنانے کا رجحان لڑکیوں اور پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں کم نظر آتا ہے: ریسرچ

ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سائنس سے متعلق مضامین میں کیریئر بنانے کا رجحان مراعات یافتہ طبقے کے نوجوانوں میں عام ہے جبکہ ایسے زیادہ تر طالب علموں کا پسِ منظرایشیائی گھرانوں سے ہے۔

جائزہ رپورٹ سے ظاہر ہوا ہے کہ سائنس پڑھنے اورمستقبل میں سائنس کی فیلڈ کو بطور کیرئیر اپنانے کا رجحان لڑکیوں میں خاص طور پر اور پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں بےحد کم ہے۔ بلکہ ایسے طلبہ سائنس کے مضمون میں اپنی دلچسپی کھو رہے ہیں کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ سائنس پڑھنا صرف ذہین ترین لوگوں کا کام ہے اور وہ ان میں سے نہیں ہیں۔

برطانوی روزنامے 'انڈیپینڈنٹ' کے مضمون کے مطابق یہ تحقیق ایک سائنسی منصوبے کا حصہ تھی جسے مشترکہ طور پر 'کنگ کالج لندن' اور سائنس میوزیم کی معاونت حاصل ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مطالعے کے نتیجے کو اس منصوبے میں استعمال کیا جائے گا جس کا مقصد سائنس کو پورے خاندان کے لیے دوستانہ مضمون بنانا ہے۔

مطالعے میں شامل 11 سے 15 برس کے 3,658 طلبہ سے پتا چلا کہ مجموعی طور پر ایسے طالب علموں کی تعداد صرف 5 فیصد تھی جو سائنس کے مضمون میں اعلی درجے کی دلچسپی رکھتے تھے اور مستقبل میں سائنس کے میدان میں کیرئیر بنانے کے حوالے سے با اعتماد تھے۔

اس گروپ کے لیے محقققین نے 'ہائی سائنس کیپٹل' کی اصطلاح کا استعمال کیا ہے۔

اس برعکس 27 فیصد طلبہ سائنس پڑھنے میں بہت کم دلچسپی رکھتے تھے اور مستقبل میں سائنس کے میدان میں کوئی بھی پیشہ اختیار کرنے کے حوالے سے تذبذب کا شکار تھے یا پھر اپنی قابلیت پر بھروسہ نہیں رکھتے تھے۔

محققین نے اس اکثریتی گروپ کے طالب علموں کے لیے تحقیق میں 'بگ مڈل ' کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ اس گروپ میں شامل طلبہ سکینڈری اسکول تک سائنس پڑھنے میں دلچسپی رکھتے تھے لیکن ہائر تعلیمی ڈگری اور سائنس میں پیشہ منتخب کرنے کے حوالے سے یقین نہیں رکھتے تھے۔

تحقیقی رپورٹ سے منسلک محققین کہتے ہیں کہ مطالعے میں شامل طلبہ کی مجموعی تعداد میں سے ایشیائی پس منظر کے حامل طالب علموں کی تعداد صرف 8 فیصد تھی۔ انہی آٹھ فیصد ایشیائی طلبہ کی 14 فیصد تعداد سائنس میں اعلی درجے کی دلچسپی رکھتی تھی اور مستقبل میں اسی میدان میں پیشہ اختیار کرنے کی خواہشمند تھی۔ جبکہ ہائی سائنس کیپٹل گروپ میں شامل ایشیائی گھرانوں کے ایسے با اعتماد طلبہ کی مجموعی تعداد 5 فیصد تھی۔

اس نتیجے کے برعکس سائنس میں اعلی درجہ کی دلچسپی رکھنے والے گروپ میں سفید فام طالب علموں کی مجموعی شرح کا تناسب ایشیائی طالب علموں کے مقابلے میں بہت کم تھا۔

کنگ کالج لندن کی محقق ڈاکٹر لوئیس آرچر نے کہا کہ عام طور پر 'بگ مڈل' گروپ کے طلبہ میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اگرچہ انھیں سائنس کا مضمون پسند ہے اور وہ اس مضمون میں ٹھیک بھی ہیں، لیکن پھر بھی اتنے اچھے نہیں ہیں۔ جبکہ ان کے خیال میں مستقبل میں سائنس کا مضمون اسی وقت جاری رکھنا چاہیے جب آپ کلاس میں ذہین ترین ہوں۔

تحقیق سے وابستہ ٹیم نے تجویز پیش کی ہے کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ ابھی سے پرائمری اسکول کے طلبہ میں سائنس کے مضمون میں گہری دلچسپی پیدا کی جائے اور کلاس کے اندر اور کلاس سے باہر بھی طالب علموں کے لیے سائنس سیکھنے کا انتظام کیا جائے تاکہ سکینڈری اسکول تک پہنچتے پہنچتے یہ طلبہ سائنس میں اپنی دلچسپی کھو کر اسے مستقبل میں پڑھنے کا ارادہ ترک نہ کر دیں۔

XS
SM
MD
LG