رسائی کے لنکس

logo-print

خلائی چہل قدمی میں امریکی خلاباز کا آئینہ گم ہو گیا


بین الاقوامی خلائی اسٹیشن

ایک امریکی خلاباز جب خلا میں سائنسی امور کی انجام دہی کے لیے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے باہر نکلا تو اس کے خلائی سوٹ پر نصب ایک آئینہ الگ ہو کر خلا میں بھٹک گیا۔

زمین اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے درمیان خلا میں نامعلوم تعداد میں اسی طرح کی چھوٹی بڑی چیزیں اور کوڑا کرکٹ تیر رہا ہے، جسے ٹھکانے لگانے کا فی الحال کوئی بندوبست نہیں کیا جا سکا۔

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں امریکی کمانڈر کرس کیسڈی نے بتایا ہے کہ خلائی سوٹ سے الگ ہونے کے بعد آئینہ تقریباً ایک فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے تیرتا ہوا دور چلا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینہ ان کے سوٹ پر نصب تھا۔ جب وہ خلائی اسٹیشن سے باہر نکلیں تو آئینہ کسی طرح الگ ہو گیا، جو پکڑا نہیں جا سکا۔

خلا میں سائنسی امور سرانجام دینے کے لیے جب خلاباز، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے باہر نکلتے ہیں تو ان کے خلائی لباس کے دونوں بازوؤں پر آئینے نصب کیے جاتے ہیں، تاکہ وہ کام کرنے کے دوران اپنے گرد و پیش کے ماحول کا بہتر طور پر مشاہدہ کر سکیں۔

بتایا گیا ہے کہ گم ہونے والا آئینہ چھوٹے سائز کا تھا جس کی لمبائی صرف 12 سینٹی میٹر اور چوڑائی 8 سینٹی میٹر تھی۔ کیسڈی نے کنٹرول مشن کو بتایا ہے کہ جب وہ خلائی اسٹیشن سے باہر نکل کر سورج کی روشنی میں آئیں تو انہوں نے یہ دیکھنے کے لیے اپنی آستین کا جائزہ لیا کہیں آئینہ ٹانکے ٹوٹنے کی وجہ سے تو الگ نہیں ہوا، مگر سب کچھ ٹھیک تھا مگر آئینہ نہیں تھا۔

کیسڈی اور ان کے دوسرے ساتھی باب بینکن خلا میں سائنسی امور کی انجام دہی کے پروگرام کے مطابق، چار بار بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے باہر نکلے۔ اس سلسلے میں وہ ایک بار باہر نکل کر خلائی اسٹیشن کی پرانی بیٹریاں تبدیل کر چکے ہیں۔

خلائی چہل قدمیاں جولائی میں بھی جاری رہیں گی اور اگست میں خلاباز باب بینکن سپیس ایکس کے ذریعے زمین پر واپس آ جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG