خواتین کے عالمی دن پر پاکستان کے مختلف شہروں میں 'عورت مارچ' کا انعقاد کیا گیا۔ مختلف تنظیموں کی جانب سے ریلیوں کی اہتمام کیا گیا جس میں خواتین کے حقوق کے مطالبات پیش کیے گئے۔ اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر عورت مارچ پر پتھراؤ بھی ہوا۔ انتظامیہ کی جانب سے ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے انتظإمات کیے گئے تھے۔ پولیس کی جانب سے سڑک کے درمیان ایک حفاظتی حصار قائم کیا گیا تھا۔ کوئٹہ مین عورت مارچ میں خواتین کے حقوق کے ساتھ لاپتا افراد کی بازیابی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
‘مبارک ہو، بیٹی ہے!’
18
کراچی میں عورت مارچ میں خصوصی اسٹیج بنایا گیا تھا جہاں سے مقررین نے خیالات کا اظہار کیا۔
19
ملتان میں مارچ میں شریک خواتین اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر آئیں۔
20
مارچ میں شریک بعض نوجوان میڈیا کے بھی ناقد نظر آئے۔
21
عورت مارچ کے شرکا نے چہروں پر بھی مختلف نعرے لکھے ہوئے تھے۔