رسائی کے لنکس

آسٹریلوی سائنس دانوں کا پارکنسن کا مؤثر علاج دریافت کرنے کا دعویٰ


فائل فوٹو

آسٹریلیا کے تحقیق کاروں نے ایک نئی قسم کا رقیق مادہ یا کریم تیار کی ہے، اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کی مدد سے رعشہ یا پارکنسن کے مرض کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دوا فالج کے مرض کے علاج میں مفید ہو سکتی ہے۔

سڈنی سے وائس آف امریکہ کے نامہ نگار فل مرسر نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پارکنسن کا ابھی تک کوئی شافی علاج میسر نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مرض وقت کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے اور مریض کی معذوری میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اس کا تعلق دماغ کے اعصابی خلیوں سے ہوتا ہے۔ آسٹریلوی سائنس دانوں کو امید ہے کہ ان کی تیار کردہ نئی کریم اس مرض کے علاج کے لیے کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔

تحقیق کار کے مطابق، یہ ہائیڈرو جل قدرتی ایمونو ایسڈ سے بنائی گئی ہے۔ ایمونو ایسڈ انسانی جسم میں پروٹین بناتا ہے۔ یہ ہائیڈرو جل دماغ کے ناکارہ خلیوں کی جگہ نئے خلیے بناتا ہے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ یہ نئے اعصابی خلیے بالکل اسی طرح کام کرنا شروع کر دیتے ہیں، جیسے پہلے والے خلیے کرتے تھے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ کریم در اصل دماغ کو سٹیم سیل منتقل کرنے کے ایک محفوظ ذریعہ کا کام کرتی ہے۔ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ اس عمل سے ناکارہ ٹشو بحال ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی ضائع شدہ نیورونز کی جگہ نئے نیورونز پیدا ہونے لگتے ہیں۔ دماغ کے جس حصّے کے یہ ٹشو اور نیورونز کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، وہی حصّہ پارکنسن کے مرض کا سبب بنتا ہے۔

پارکنسن ایک اعصابی بیماری ہے اور صرف آسٹریلیا میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ اس لاعلاج مرض میں مبتلا ہیں۔

آسٹریلیا کی یونیورسٹی کے نیشنل کالج آف ہیلتھ اینڈ میڈیسن کے پروفیسر ڈیوڈ نسبیٹ اس تحقیق میں پیش پیش رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب فالج کا حملہ ہوتا ہے تو خون کی بندش کی وجہ سے خلیوں کی ایک بہت بڑی تعداد مردہ ہو جاتی ہے۔

پارکنسن کے مرض میں بھی اعصابی خلیوں کی کثیر تعداد ناکارہ ہو جا تی ہے اور اسی کی وجہ سے ہم رعشہ کی جسمانی علامات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

بقول سائنس دان، اس نئی تحقیق میں ہم بنیادی طور پر دماغ کے اندر ان ناکارہ خلیوں کی جگہ نئے خلیے پیدا کرتے ہیں ، بعض اوقات ان کی مرمت کر کے انہیں فعال کر دیا جاتا ہے، اس کے علاوہ نئے خلیے بھی پیدا ہونے لگتے ہیں۔ جب ہم یہ کریم دماغ میں ڈالتے ہیں تو اس کا ایک اضافی فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ متاثرہ خلیوں کے آس پاس صحت مند خلیوں کو تحفظ مل جاتا ہے۔

تحقیق کاروں نے بتایا کہ اس کریم کو محلول شکل میں انجکشن کے ذریعے جسم میں داخل کیا جاتا ہے، دماغ میں پہنچ کر یہ جیلی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہ دماغ کے اس حصّے میں پہنچائی جاتی ہے جو پارکنسن یا سٹروک کا مرض کا سبب ہوتا ہے۔ ان سٹیم سیلز میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ متاثرہ نیورونز کی جگہ صحت مند اعصابی خلیے پیدا کرنے میں مدد گار ہوتے ہیں۔

پروفیسر نسبیٹ کا خیال ہے کہ اس تحقیق کے ابتدائی نتائج خاصے حوصلہ افزا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جانوروں پر کیے جانے والے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ مکمل طور بنے قدرتی ہائیڈرو جیل نے کامیابی کے ساتھ جسمانی حرکات اور علامات میں بہتری پیدا کی ہے اور ان کا لرزنا کم یا بند ہو گیا۔

سائنس دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آگے چل کر یہ ٹیکنالوجی زخمی گھٹنوں اور کاندھوں کے علاج کے لیے بھی استعمال کی جا سکے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG