رسائی کے لنکس

آسٹریا میں زیرِ حراست مشتبہ پاکستانی سے تفتیش


فائل فوٹو
فائل فوٹو

پیرس میں ذرائع اور سنڈے ٹائمز کے مطابق باور کیا جاتا ہے کہ یہ مشتبہ شخص کالعدم تنظیم لشکر طیبہ اور لشکر جھنگوی کے لیے بم ساز تھا۔

آسٹریا میں استغاثہ کا کہنا ہے کہ سالزبرگ سے گرفتار دو افراد میں سے ایک پاکستانی سے گزشتہ نومبر میں پیرس اور 2008ء میں بھارتی شہر ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سے اس کے مبینہ تعلق کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق استغاثہ کا کہنا ہے "اس ضمن میں معلومات اشارہ کرتی ہے کہ اس معاملے کو دیکھا جائے۔"

اس 34 سالہ مشتبہ شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور اسے گزشتہ دسمبر میں آسٹریا کے مغربی شہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ایک بیان میں استغاثہ کا کہنا تھا کہ "اس بارے میں وسیع پیمانے پر ہونے والی تفتیش اور دیگر پوچھ گچھ جاری ہے اور سرکاری استغاثہ کا دفتر گزشتہ دسمبر سے اس بارے میں پاکستان کی طرف سے معلومات کا منتظر ہے۔"

’اے ایف پی‘ کے مطابق پیرس میں ذرائع اور سنڈے ٹائمز کے مطابق باور کیا جاتا ہے کہ یہ مشتبہ شخص کالعدم تنظیم لشکر طیبہ اور لشکر جھنگوی کے لیے بم ساز تھا۔

بھارت ممبئی حملوں کی ذمہ داری لشکر طیبہ پر عائد کرتا ہے جس میں غیر ملکیوں سمیت 166 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

گزشتہ سال پیرس اور رواں برس مارچ میں برسلز میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری مشرق وسطیٰ میں سرگرم شدت پسند گروپ داعش نے قبول کی تھی اور حکام کو شبہ ہے کہ اس گروپ نے دو شدت پسندوں کو یورپ میں کارروائیوں میں کے لیے بھیجا ہے۔

آسٹرین حکام نے فروری میں کہا تھا کہ پیرس حملوں میں مبینہ طور پر ملوث دو افراد اسی کشتی پر سوار تھے جو تقریباً 200 تارکین وطن کو لے کر یونان آئی تھی۔

پیرس میں حملہ کرنے والے دہشت گرد تو فرانس تک پہنچنے میں کامیاب رہے لیکن ان دو کو شام کا جعلی پاسپورٹ رکھنے کے الزام میں یونان میں 25 روز تک حراست میں رکھا گیا تھا۔

پاکستان کی طرف سے اس خبر پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

XS
SM
MD
LG