رسائی کے لنکس

logo-print

ایودھیا: کشیدگی میں اضافہ


انتہاپسند ہندو تنظیموں کے اراکین ایودھیا مسجد کے مقام پر رام مندر تعمیر کرنے کے حق میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

ہندو نواز تنظیموں وشو ہندو پریشد، شیو سینا اور دیگر ہمنوا جماعتوں کی جانب سے ایودھیا میں متنازعہ مقام پر رام مندر کی تعمیر کے ایجنڈے کے تحت بڑی تعداد میں لوگوں کو اکٹھا کیا جا رہا ہے۔

شیو سینا کے صدر اودھو ٹھاکرے ایودھیا پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے ہفتے کے روز وہاں پوجا کی اور اتوار کے روز متنازعہ مقام پر بنے عارضی مندر میں پوجا اور مختلف پروگراموں میں شرکت کریں گے۔ ضلع انتظامیہ نے ان کو ریلی کرنے کی اجازت نہیں دی۔

ان تنظیموں کی کال پر ملک کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ ٹرینوں، بسوں، کاروں، موٹر سائیکلوں اور دیگر ذرائع نقل و حمل سے ایودھیا پہنچ رہے ہیں۔ دونوں تنظیموں نے دو دو لاکھ افراد کے جمع ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

وشو ہندو پریشد کی جانب سے اتوار کے روز سادھو سنتوں کا ایک بڑا مذہبی جلسہ طلب کیا گیا ہے جس میں رام مندر کی تعمیر پر غور کیا جائے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ 1992ء کے بعد جب بابری مسجد منہدم کر دی گئی تھی، اُس کے بعد سے یہ سب سے بڑا اجتماع ہو گا۔

رپورٹوں کے مطابق ایودھیا میں کشیدگی ہے۔ مقامی مسلمانوں میں زبردست خوف و ہراس ہے۔ بابری مسجد مقدمہ کے مدعی اقبال انصاری نے ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 3500 سے زائد مسلمان ایودھیا کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔ ہم یہاں امن چاہتے ہیں۔

وہاں کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اس وقت حالات 1992 جیسے ہی ہیں۔ ہم اس دن کو نہیں بھول پائے ہیں۔

ایک سینئر تجزیہ کار پروفیسر اپوروانند نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وشو ہندو پریشد اور شیو سینا کے پروگراموں کا مقصد ملک میں بدامنی پھیلانا ہے۔ یہ لوگ ایک عرصے سے وہاں لوگوں کو اکٹھا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے پورے ملک میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ حکمراں طبقہ حالات کو خراب کر رہا ہے تاکہ اس سے سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ان کے مطابق بی جے پی وشو ہندو پریشد اور آر ایس ایس کو آئین و قانون پر بھروسہ نہیں ہے۔

ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ حالات قابو میں ہیں۔ کہیں بھی کشیدگی نہیں ہے۔ ایودھیا میں زبردست حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

اترپردیش پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق ایودھیا کو پولیس چھاونی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وہاں ایک ایڈیشنل ڈی جی پی، ایک ڈی آئی جی، تین سینئر ایس ایس پی، دس ایڈیشنل ایس پی، 21 ڈپٹی ایس پی، 160 انسپکٹر، پی اے سی کی 42 اور آر اے ایف کی پانچ کمپنیاں اور اے ٹی ایس کمانڈوز تعینات کیے گئے ہیں۔ نگرانی رکھنے کے لیے ڈرون بھی لگائے گئے ہیں۔

اترپردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایودھیا میں فوج تعینات کی جائے۔

ادھر دہلی میں بعض مسلم تنظیموں کا ایک اجلاس ہو رہا ہے جس میں اس معاملے پر صدر جمہوریہ سے ملاقات کے امکان پر غور کیا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG