رسائی کے لنکس

logo-print

بابر اعوان مشیر کے عہدے سے مستعفی


پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وزیر اعظم عمران خان کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے قومی احتساب بیورو کی طرف سے نیب ریفرنس میں نام شامل کیے جانے پر مشیر پارلیمانی امور کے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

بابر اعوان نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم عمران خان کو ارسال کردیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں بابر اعوان نے کہا ہے کہ نیب ریفرنس کے الزامات کو غلط ثابت کرنے کے لیے میرا بطور قانون دان عہدے پر رہنا مناسب عمل نہیں۔ قانون کی بالادستی کا آغاز اپنی ذات سے کر رہا ہوں، کیوں کہ ہمارے جلیل القدر صحابہ کرامؓ کا طریقہ کار بھی یہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’کرسی سے چمٹے رہنے کے بجائے استعفیٰ دے کر کپتان کو ارسال کر دیا ہے، تاکہ عدالت میں ڈٹ کر اپنی بے گناہی ثابت کر سکوں‘‘۔

اس سے قبل منگل کے روز قومی احتساب بیورو (نیب) نے نندی پور پاور پراجیکٹ میں تاخیر پر بابر اعوان اور راجہ پرویز اشرف کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا ہے۔

نیب راولپنڈی کے مطابق، نندی پور پراجیکٹ میں تاخیر پر وزیر اعظم عمران خان کے مشیر بابر اعوان اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا ہے۔

ریفرنس میں سابق ریسرچ کنسلٹنٹ شمائلہ محمود، سابق سینئر جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر ریاض محمود، سابق سیکرٹری قانون مسعود چشتی، سابق سیکریٹری قانون جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی، سابق سیکرٹری پانی و بجلی شاہد رفیع کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

ریفرنس کے مطابق، ان تمام ملزمان کی غفلت کی وجہ سے نندی پور پاور پراجیکٹ میں تاخیر ہوئی جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو 27 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

نندی پور معاہدے کے لئے وزارت پانی و بجلی نے وزارت قانون سے رائے مانگی تو وزارت قانون نے صرف رائے دینے میں 2 سال لگا دیے، تحقیقات سے ثابت ہوا کہ ملزمان نے جان بوجھ کر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔

بابر اعوان اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیر قانون اور راجہ پرویز اشرف وزیر اعظم تھے۔

تاخیر کی وجوہات جاننے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر 2011 میں نندی پور تحقیقاتی کمیشن قائم کیا گیا تھا۔

کمیشن نے رپورٹ میں وزارت قانون کے افسران کو تاخیر کا ذمہ دار قرار دیا۔ وزارت قانون نے معاملہ نیب کو بھجوایا جس نےاس معاملہ پر تحقیقات کے بعد اب ریفرنس دائر کردیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG