رسائی کے لنکس

بابری مسجد رام جنم بھومی کے حق ملکیت سے متعلق مقدمے کی سماعت ملتوی

  • سہیل انجم

فائل: بھارتی مسلمان نئی دہلی میں مسجد کی دوبارہ تعمیر کے حق میں مظاہرہ کرتے ہوئے

سپریم کورٹ نے متنازعہ بابری مسجد رام جنم بھومی کے حق ملکیت کے مقدمے کی سماعت پہلے ہی روز ملتوی کر دی۔ وہ اب اگلے سال 8 فروری کو سماعت کرے گی۔

بابری مسجد انہدام کی 25 ویں برسی سے ایک روز قبل یعنی پانچ دسمبر بروز منگل جب سماعت شروع ہوئی تو سنی سینٹرل وقف بورڈ کے وکیل کپل سبل نے یہ کہتے ہوئے کہ اس معاملے کے سیاسی اثرات مرتب ہوں گے، اپیل کی کہ اس پر جولائی 2019 میں سماعت کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ اُس وقت تک پارلیمانی انتخابات ہو چکے ہوں گے۔ اِس وقت سماعت کے لیے ماحول سازگار نہیں ہے۔

چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والے بنچ نے جس میں جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس عبد النذیر بھی شامل ہیں، ان کی دلیل کو سنجیدگی سے سنا۔ مسلم فریقوں نے اس وقت سماعت پر سوال اٹھایا اور کہا کہ اس سلسلے میں اتنی عجلت کیوں ہے۔

کپل سبل، سینئر وکیل راجیو دھون اور دیگر وکلا نے کہا کہ یہ معاملہ سات رکنی بنچ میں سنا جانا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات کے ترجمے کے لیے وقت درکار ہے۔

اترپردیش حکومت کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل سولیسیٹر جنرل تشار مہتہ نے سبل کے دعوے کی تردید کی اور کہا کہ تمام متعلقہ دستاویزات عدالت میں پیش کی جا چکی ہیں۔ اس پر سبل نے بتایا کہ کون کون سی دستاویزات پیش نہیں کی جا سکی ہیں۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی بابری مسجد کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کے بہت سے پہلو ہیں، لوگوں کے جذبات وابستہ ہیں۔ اس کے اندر 19000 صفحات پر مشتمل دستاویزات ہیں، 8000 صفحات پر مشتمل فیصلہ ہے۔ اس کے کئی آئینی پہلو بھی ہیں۔ لہٰذا اسے آئینی بنچ کے حوالے کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر عدالت نے عجلت میں کوئی فیصلہ سنایا تو یہ تاثر پیدا ہوگا کہ اس نے دوسرے فریق کے دباو میں کام کیا ہے۔ قاسم رسول الیاس نے سوال کیا کہ اس معاملے میں اتنی عجلت کیوں برتی جا رہی ہے۔ اگر عدالت کو جلدی ہی تھی تو سات سال تک اسے معرض التوا میں رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے 30ستمبر 2010 کو اس کا فیصلہ سناتے ہوئے 2.77 ایکڑ متنازعہ اراضی کے تین حصے کرکے سنی سینٹرل وقف بورڈ، نرموہی اکاڑہ اور رام للا وراجمان میں تقسیم کر دیا تھا۔ لیکن تمام فریقوں سے سپریم وکرٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

سابق چیف جسٹس جے ایس کھیہر کے بنچ نے اگست میں اس پر سماعت کرتے ہوئے پانچ دسمبر کی تاریح مقرر کی تھی اور عدالت سے کہا تھا کہ یومیہ بنیاد پر سماعت کر کے دو سال کے اندر اس کا فیصلہ سنا دیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG