رسائی کے لنکس

logo-print

بنگلہ دیش: کرونا ویکسین کی شروعات ڈھاکہ کے بڑے قحبہ خانے سے


دولت دیا کے قحبہ خانے میں ویکسین لگنے کا عمل شروع ہوگیا

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے علاقے دولت دیا میں قائم سب سے بڑے قحبہ خانے، میں حکام نے کرونا وائرس کی ویکسین لگانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان کا منصوبہ ہے کہ وہ اس علاقے کے تمام رہنے والوں کو ویکسین لگانا چاہتے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں واقع دولت دیا کے علاقے میں 1900 کے قریب موجودہ اور سابقہ سیکس ورکر رہائیش پذیر ہیں۔ ان میں سے اکثر کی عمریں 15 برس سے لے کر 40 برس تک کی ہیں۔

دولت دیا علاقے میں ویکسین کی مہم کے سربراہ ڈاکٹر آصف محمود کا کہنا ہے کہ اب تک 150 سیکس ورکروں کو کرونا وائرس کی ویکسین لگ چکی ہے۔

بنگلہ دیش میں 40 سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے ویکسین لگانے کا عمل شروع ہو چکا ہے مگر حکام نے دولت دیا کے علاقے کے لیے یہ شرط ختم کر دی ہے۔

آصف محمود کا کہنا ہےکہ ’’یہاں ملک کے ہر کونے سے لوگ آتے ہیں۔‘‘

ان کے بقول اگر اس علاقے کے سیکس ورکروں کو مکمل طور پر ویکسین کے پروگرام میں شامل نہ کیا گیا تو یہ کرونا وائرس پھیلانے کا مرکز بن سکتا ہے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں 18 برس سے زیادہ عمر کی خواتین کے لیے قانونی طور پر سیکس ورک کی اجازت ہے۔ ملک میں 11 قحبہ خانے موجود ہیں۔

پچھلے برس کرونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے ملک میں لگنے والے لاک ڈاؤن سے ملک کے قحبہ خانے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

جہاں حکام کی جانب سے انہیں خوراک مہیا کی جاتی رہی وہیں کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے وہ دوائیوں اور اپنے گھروں میں پیسہ بھیجنے سے محروم رہے۔

لاک ڈاؤن کی پابندیاں اگرچہ پانچ مہینے بعد کم ہو گئیں تھیں لیکن اب بھی بہت کم گاہک یہاں کا رخ کر رہے ہیں۔

دولت دیا کی سیکس ورکر ایسوسی ایشن کی سربراہ جھومر بیگم کا کہنا ہے کہ لڑکیوں اور عورتوں کو ان گاہکوں سے لڑنا جھگڑنا بھی پڑا جنہوں نے ماسک پہننے سے انکار کیا۔

انہوں نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب بھی یہ لڑکیاں قحبہ خانے کے علاقے سے باہر جاتی ہیں یہ ماسک پہنتی ہیں۔ لیکن اگر یہ قحبہ خانے کے اندر بھی ماسک پہنیں تو اس سے ان کا کاروبار متاثر ہوتا ہے۔‘‘

جہاں بنگلہ دیش میں انسانی سمگلنگ کا کاروبار غیر قانونی ہے وہیں ملک کے غریب علاقوں میں جن میں دولت دیا کا علاقہ بھی شامل ہے بچوں کا جنسی استحصال اب بھی جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG