رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش: جماعت اسلامی کے چھ رہنماؤں کی سزائے موت پر پاکستان کی تشویش


بنگلہ دیش کی پولیس ڈھاکہ ہائی کورٹ کے سامنے تعینات ہے (فائل فوٹو)

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بنگلہ دیش میں 1971 کے جنگ کے حوالے سے پاکستان کی حمایت کرنے والے سیاستدانوں کو مسلسل سزائے موت دیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے چھ رہنماؤں کو سزائے موت دئے جانے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان راہنماؤں کو بنگلہ دیش کے بین الاقوامی کرائمز ٹرائی بیونل نے 1971 کی جنگ کے دوران مبینہ طور پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

جماعت اسلامی کے یہ رہنما ابو صالح محمد عبدالعزیز میا، روح الامین، ابو مسلم محمد علی، عبدالطیف، نجم الہدیٰ اور عبدالرحیم میا ہیں۔ عبدالطیف اس وقت جیل میں قید ہیں جبکہ باقی پانچ راہنما فرار ہو چکے ہیں۔

ان ملزمان پر لوٹ مار کرنے اور متعدد افراد کو قتل کرنے کا الزام تھا جن میں ایک ہندو ، چھاترا لیگ کا ایک لیڈر اور پانچ یونینوں کے 13 چیئرمین اور ارکان شامل ہیں۔ ان افراد پر یہ الزامات جنگ کے 45 برس بعد 28 جون، 2016 کو عائد کئے گئے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران آج جمعرات کو بنگلہ دیش میں 1971 کے جنگ کے حوالے سے پاکستان کی حمایت کرنے والے سیاستدانوں کو مسلسل سزائے موت دئے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر پروفیسر مجیب الرحمٰن نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے حکومت کا سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔

اُدھر پاکستان میں جماعت اسلامی کے سربراہ سنیٹر سراج الحق نے بھی بنگلہ دیش کے اس اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے مذکورہ رہنماؤں کو متحدہ پاکستان کی حمایت کرنے پر سزا دی جا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG