رسائی کے لنکس

logo-print

قربانی کے لیے 70 لاکھ کا بیل


ڈھاکہ کے ایک فارم میں 70 لاکھ روپے کا ’باس’ نامی بیل اپنے خدمت گار کے ساتھ، 7 اگست 2019

ان دنوں دنیا بھر میں، جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں، عید الاضحی کے لیے قربانی کے جانور خریدے جا رہے ہیں۔ ہر صاحب حیثیت مسلمان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق اچھے سے اچھا جانور حاصل کرے۔ خوب پلے ہوئے جانور منہ مانگی قیمت پاتے ہیں اور کئی ایک تو میڈیا کی شہ سرخیوں کا موضوع بن جاتے ہیں۔

آج کل بنگلہ دیش کے ایک بیل ’باس‘ کا بڑا چرچا ہے۔ اسے حال ہی میں قربانی کے لیے ایک شخص نے 37 لاکھ ٹکوں میں خریدا ہے۔ پاکستانی روپوں میں یہ قیمت تقریباً 70 لاکھ اور امریکی ڈالروں میں 43750 بنتی ہے۔

اپنی قدر و قیمت کے لحاظ سے یہ بیل دنیا بھر کے بیلوں کا یقیناً ’باس‘ ہے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ’باس‘ کی پیدائش امریکہ کی ہے، جسے بعد ازاں بنگلہ دیش منتقل کر دیا تھا۔ وہاں اس کی پرورش اور نگہداشت ڈھاکہ کے مضافات میں واقع صدیق ایگرو فارم میں کی گئی اور عید الاضحی کی آمد سے قبل اسے مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا۔

اے ایف پی نے فارم کے محمد عمران حسین کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’باس‘ کا وزن تقریباً 1400 کلو یعنی 3100 پاؤنڈ ہے۔ خریدار کے متعلق اس کا کہنا تھا کہ وہ ایک گارمنٹ فیکڑی کا مالک ہے۔

بنگلہ دیش، چین کے بعد ریڈی میڈ گارمنٹس تیار کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ بنگلہ دیش کی تیز رفتار معاشی ترقی میں ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمد کا بڑا حصہ ہے۔ 2019 میں بنگلہ دیش نے تقریباً 33 ارب ڈالر مالیت کے تیارشدہ ملبوسات برآمد کیے جو اس کی کل برآمدات کا 84 فی صد ہیں۔

گارمنٹ انڈسٹری بنگلہ دیش میں 45 لاکھ سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے۔ گارمنٹ فیکٹریوں کے مالکان بڑے خوشحال تصور کیے جاتے ہیں اور وہ قربانی کے لیے 70 لاکھ روپوں کا بیل خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔

تاہم یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ بنگلہ دیش کی گارمنٹ انڈسٹری میں پاکستانیوں کی بھی بڑی سرمایہ کاری ہے۔

32 لاکھ روپے سے زیادہ قیمت پانے والا بیل ’ ٹائی ٹینک‘ ۔
32 لاکھ روپے سے زیادہ قیمت پانے والا بیل ’ ٹائی ٹینک‘ ۔

تاہم عمران حسین کے فارم کے دو اور بیل بھی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں اور ان کی تصویریں اور خبریں شائع ہو رہی ہیں۔ ان میں سے ایک کا نام ’میسی‘ ہے۔ اسے یہ نام دنیا بھر میں شہرت رکھنے والے ارجنٹائن کے فٹ بالر سٹار ’میسی‘ کے نام پر ردیا گیا ہے۔ عید قربان کے موقع پر ایک نامعلوم خریدار اسے 28 لاکھ ٹکوں یعنی ساڑھے 52 لاکھ پاکستانی روپوں میں لے گیا ہے۔ ممکن ہے کہ وہ بھی کسی گارمنٹ فیکٹری کا مالک ہو۔

​جب کہ تیسرا شہرت یافتہ بیل ’ ٹائی ٹینک ‘ہے۔ شاہد اسے یہ نام اپنے زمانے کے سب سے بڑے بحری جہاز’ ٹائی ٹینک‘ پر بننے والی مشہور زمانہ فلم سے متاثر ہو کر دیا گیا ہے۔ یہ جہاز یورپ سے امریکہ کی جانب اپنے پہلے ہی سفر میں ڈوب گیا تھا۔ تاہم اس پر بننے والی فلم نے اربوں ڈالر کمائے۔ بنگلہ دیشی فارم کے مالک عمران حسین نے بھی اپنے ’ٹائی ٹینک‘ سے کافی مال بنایا اور اسے اس بیل کے 17 لاکھ ٹکے یعنی سوا 32 لاکھ روپے ملے۔

​بنگلہ دیش میں عید کے موقع پر بڑے پیمانے پر مہنگے داموں قربانی کے جانوروں کی خرید اور دیگر فیاضانہ اخراجات کو اقتصادی ماہرین وہاں تیزی سے پھلتی پھولتی معیشت اور لوگوں کی آمدنیوں میں اضافے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے محکمہ مور حیوانات کا کہنا ہے کہ اس عید قرباں پر اندازاً ایک کروڑ دس لاکھ جانور ذبح کیے جائیں گے جن میں بکرے، بھیڑیں، گائیں، بیل اور اونٹ شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG