رسائی کے لنکس

logo-print

ڈھاکا کیفے پر حملے کا ’مرکزی منصوبہ ساز پولیس کارروائی میں ہلاک‘


بنگلہ دیش پولیس نے دارالحکومت ڈھاکا میں عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر چھاپہ مار کر کم از کم تین مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے میں گزشتہ ماہ ایک کیفے پر ہوئے مہلک حملے کے مشتبہ مرکزی منصوبہ ساز بھی شامل ہے۔

پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار سناور حسین نے مبینہ عسکریت پسندوں کے مارے جانے ک تصدیق کی ہے۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ڈھاکا سے 25 کلو میٹر جنوب میں نریان گنج کے علاقے میں پولیس کی مسلح انتہا پسندوں کے ساتھ جھڑپ ایک گھنٹے تک جاری رہے جس میں دونوں طرف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔

بنگلہ دیش پولیس کے سربراہ اے کے ایم شاہد الحق نے فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ "انھوں نے ہتھیار نا ڈالے۔ انھوں نے پولیس پر چار، پانچ دستی بم پھینکے اور اے کے 22 رائفل سے فائرنگ بھی کی"۔

عہدیداروں کے مطابق مارے جانے والوں میں بنگلہ دیشی نژاد کینڈین شہری تمیم احمد چوہدری بھی شامل ہے۔ اسے گزشتہ ماہ بنگلہ دیش میں ہوئے مہلک ترین حملے کا مرکزی منصبوبہ خیال کیا جاتا ہے۔

ڈھاکا میں ایک کیفے پر ہوئے حملے میں بیس افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں دو پولیس اہلکار اور 18 غیر ملکی شہری تھے۔\

اطلاعات کے مطابق پولیس اور سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر کئی چھاپے مارے۔ دو اگست کو حکام نے تمیم کے متعلق معلومات فراہم کرنے والے کے لیے 25 ہزار ڈالر انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔

دو جولائی کو کیفے پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی تھی ۔ اس واقعہ میں مسلح افراد نے ڈھاکا کی ہولی آرٹسن بیکری میں داخل ہو کر مغوی بنائے جانے والے افراد میں سے متعدد کو قتل کر دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG