رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش: ریستوران پر حملے میں 20 غیرملکی یرغمالی مارے گئے


پولیس کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ آٹھ سے نو مسلح افراد نے ڈھاکہ کے معروف علاقے میں واقع ریستوران میں داخل ہو کر وہاں موجود لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے کہا ہے کہ ڈھاکا میں ریستوران ’ہولی آرٹیزن بیکری‘ پر حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے افراد میں سے 20 مارے گئے۔

حکومت کے ترجمان کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں چھ حملہ آور مارے گئے جب کہ ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ شدت پسند تنظیم ’داعش‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی اس کے جنگجوؤں نے کی۔

فوج کے برگیڈیئر جنرل نعیم اشرف چوہدری نے ہفتے کو اعلان کیا ہے کہ مارے جانے والے تمام 20 افراد غیر ملکی تھی اور خیال ہے کہ ان میں سے بیشتر کا تعلق اٹلی اور جاپان سے ہے۔

اس سے قبل حکام کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے ریستوران میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے وہاں موجود کم ازکم 13 یرغمالیوں کو بازیاب کروا لیا ہے۔

حکام کے مطابق بازیاب کروائے گئے لوگوں میں تین غیر ملکی بھی شامل ہیں جب کہ ان میں سے کچھ زخمی بھی ہوئے۔

’داعش‘ کے مشتبہ جنگجوؤں نے جمعہ کی شب ریستوران پر حملہ کر کے غیر ملکی شہریوں سمیت لگ بھگ 35 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ بنگلہ دیش کے ’کمانڈوز‘ نے جب کارروائی شروع کی تو علاقے سے فائرنگ کی شدید آوزایں آئیں۔

پولیس کی طرف سے ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کہ آٹھ سے نو مسلح افراد نے ڈھاکہ کے معروف علاقے میں واقع ریستوران میں داخل ہو کر وہاں موجود لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

جس ریستوان پر یہ حملہ کیا گیا وہ غیر ملکی شہریوں میں بھی خاصا مقبول تھا۔

شدت پسند گروپ ’داعش‘ سے وابستہ عماق نیوز ایجنسی کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ حملہ اُس کے جنگجوؤں کی کارروائی ہے۔ حملے کے بعد فائرنگ میں کم از کم دو پولیس اہلکار ہلاک جب لگ بھگ 30 زخمی ہو گئے تھے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر کے ذریعے اِس بات کی تصدیق کی تھی کہ یہ حملہ ڈھاکہ کے جس علاقے میں کیا گیا وہاں سفارت خانے بھی واقع ہیں۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کے ترجمان جان کِربی نے جمعہ کو بتایا ہے کہ ڈھاکہ میں امریکی سفارت خانے میں کام کرنے والے تمام امریکی محفوظ ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق مسلح افراد جمعہ کی شب لگ بھگ نو بجے ریستوران میں داخل ہوئے۔ پولیس نے فوری طور پر ریستوران کے اردگِرد علاقے میں ناکہ بندی کر دی تھی جب کہ علاقے میں بکتر بند گاڑیاں بھی فوری طور پر پہنچ گئی تھیں۔

وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے ایک بیان میں کہا کہ ’’یہ ایک انتہائی بیہمانہ فعل ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسی کارروائی کرنے والوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ وزیراعظم حسینہ واجد نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کو دہرایا۔

حالیہ مہینوں میں بنگلہ دیش میں حملوں میں بلاگرز، سیکولر سوچ رکھنے والوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں کو قتل کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG