رسائی کے لنکس

logo-print

عام انتخابات میں جیت ہماری ہوگی: شیخ حسینہ


بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کو پوری امید ہے کہ وہ عام انتخابات میں تیسری بار کامیاب ہوجائیں گی، جس کی بنیاد اُن کے 10 سالہ دور میں معیشت کے میدان میں نمایاں بہتری بتائی جاتی ہے۔ لیکن، اُن کے مخالفین اُن پر الزام لگاتے ہیں کہ اُن کا انداز حکمرانی آمرانہ ہے اور اُنھوں نے جمہوریت کی جڑیں اکھاڑ پھیکیں ہیں۔

اتوار کے روز ہونے والے انتخابات میں حسینہ کی عوامی لیگ حزب مخالف کے اتحاد کے مد مقابل ہے جسے 'نیشنل یونٹی فرنٹ' کا نام دیا گیا ہے، جسے تین ماہ قبل 82 برس کے کمال حسین نے تشکیل دیا تھا، جو سابق وزیر خارجہ اور وکیل ہیں۔

ملک کی حزب مخالف کی اہم رہنما، خالدہ ضیا قید ہیں اور اُنھیں انتخابات لڑنے کی اجازت نہیں ہے۔

اکہتر برس کی شیخ حسینہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ملک کو ''فرقہ واریت سے پاک، سنہری بنگلہ دیش بنائیں گی، جو بھوک، غربت اور جہالت سے آزاد ہوگا''؛ اور یہ کہ 2021ء تک وہ 16 کروڑ مسلمان اکثریت والے ملک کو ایک متوسط آمدن والا ملک بنا دیں گی۔

یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ معیشت نے پیش رفت دکھائی ہے۔ مخالفین الزام لگاتے ہیں کہ حکومت کو جمہوریت کو مضبوط بنانے سے کوئی غرض نہیں۔

حزب مخالف کے پلیٹ فارم سے ایسے قوانین کو کالعدم قرار دینے کے لیے کہا گیا ہے جن کے لیے حقوق انسانی کے گروپوں کا کہنا ہے کہ ان کی بدولت حکومت اختلاف رائے رکھنے والے افراد اور ذرائع ابلاغ کو ہراساں کرنے میں دیر نہیں لگاتی۔

ووٹنگ سے قبل سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، اور ملک بھر میں لاکھوں پولیس والے اور نیم سرکاری اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، تاکہ اندازاً 40000 الیکشن بوتھ کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اتوار کے ووٹ سے پہلے پرتشدد ہنگامہ آرائی ہو چکی ہے جس دوران کم از کم چھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ حزب مخالف الزام لگاتی ہے کہ زیادہ تر اُنہی کے حامیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اپوزیشن رہنما کمال حسین نے کہا ہے کہ انتخابی ریلیوں میں حملوں کا سلسلہ جاری رہا ہے، جس کے باعث متعدد امیدوار میدان میں آنے سے کتراتے ہیں۔

عوامی لیگ کی ریلی
عوامی لیگ کی ریلی

عطا الرحمٰن ڈھاکہ یونیورسٹی میں سیاست کے پروفیسر ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ حزب مخالف کی جماعتوں کی تشویش جائز ہے۔

اُن کے الفاظ میں ''زیادہ تر پر تشدد کارروائیاں حزب مخالف کے امیدواروں اور اپوزیشن کے سرگرم کارکنان کے خلاف ہوتی رہی ہیں''۔

اُنھوں نے کہا کہ مخالفین کے امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے کی آزادی نہیں تھی۔ وہ زیادہ تر یہ دلیل دیتے ہیں، جو کہ درست ہے، کہ حکومت نے اُن پر پابندیاں لگا رکھی تھیں، اور اُن کے خلاف عدالتوں میں متعدد مقدمات درج تھے''۔

حزب مخالف کا کہنا ہے ایک ماہ قبل جب حکومت نے انتخابات اعلان کا کیا، تب سے اُن کے 8000 سے زیادہ حامیوں کو زیر حراست لیا گیا ہے، جب کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے کارکنوں کے خلاف سیکڑوں مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔ پارٹی کی رہنما، خالدہ ضیا نے، جنھیں بدعنوانی کے الزام پر گذشتہ فروری میں جیل میں ڈال دیا گیا تھا، کہا ہے اُن کے خلاف درج مقدمات سیاسی وجوہ کی بنا پر درج کیے گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG