رسائی کے لنکس

logo-print

بنگلہ دیش: جماعت اسلامی کے میر قاسم کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار


جماعت اسلامی نے عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے بدھ کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

بنگلہ دیش کی اعلیٰ ترین عدالت نے 1971ء کی جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کے الزام میں جماعت اسلامی کے ایک رہنما میر قاسم علی کی سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس کے بعد ان کی اس سزا پر کسی بھی وقت عملدرآمد کیا جا سکتا ہے۔

جنگی جرائم کے مقدمات کے لیے قائم خصوصی ٹربیونل نے انھیں نومبر 2014ء میں سزائے موت سنائی تھی جس کے خلاف انھوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

63 سالہ میر قاسم جماعت اسلامی کو مالی وسائل مہیا کرنے میں کلیدی کردار کے حامل ہیں اور ان پر الزام ہے کہ وہ 1971ء کی جنگ کے دوران قتل، اغوا، تشدد اور مذہبی منافرت کو ہوا دینے میں ملوث ہیں۔

اٹارنی جنرل محبوب عالم نے ڈھاکا میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ میر قاسم کی سزا موت پر کسی بھی وقت عمل درآمد کیا جا سکتا ہے تاوقتیکہ وہ صدر سے رحم کی اپیل کریں۔

میر قاسم کے وکلائے دفاع کا کہنا ہے کہ صدر سے رحم کی اپیل کرنے کا فیصلہ ان کے موکل اور ان کے اہل خانہ ہی کریں گے۔

جماعت اسلامی نے عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے بدھ کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے دسمبر 2010ء میں خصوصی ٹربیونل تشکیل دیا تھا جو اب تک متعدد افراد کو سزائے سنا چکا ہے۔

2013ء کے بعد اب تک جماعت اسلامی کے چار اہم رہنماؤں بشمول مطیع الرحمن نظامی اور حزب مخالف کی ایک مرکزی جماعت کے ایک رہنما کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے۔

انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے خصوصی ٹربیونل کی کارروائی کو انصاف کے بین الاقوامی معیار کے منافی قرار دیا جا چکا ہے جب کہ حزب مخالف اسے حکومت کی طرف سے سیاسی حریفوں کو انتقام کا نشانہ بنانے کے مترادف قرار دیتی ہے۔

تاہم حکومت کا موقف ہے کہ وہ ملک کی آزادی کے لیے لڑی جانے والی جنگ کے دوران ہم وطنوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد اور دیگر جرائم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہتی ہے۔

XS
SM
MD
LG