رسائی کے لنکس

logo-print

بنگلہ دیش: جنگی جرائم پر رکن پارلیمنٹ کو سزائے موت


صلاح الدین چودھری حزب مخالف کی ایک اہم جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے رکن ہیں اور انھیں یہ سزا 1971 کے مبینہ جنگی جرائم بشمول نسل کشی میں ملوث ہونے پر خصوصی ٹربیونل نے سنائی۔

بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کی سماعت کے لیے بنائے گئے ایک خصوصی ٹربیونل نے 1971 کی جنگ آزادی میں مبینہ جرائم کے ارتکاب پر حزب مخالف کے ایک قانون ساز کو موت کی سزا سنائی ہے۔

ڈھاکا میں قائم متنازع ٹربیونل نے صلاح الدین قدیر چودھری کو جنگی جرائم بشمول نسل کشی میں ملوث ہونے پر یہ سزا سنائی۔

اُنھیں پاکستان سے جنگ آزادی کے دوران کم از کم 200 شہریوں کو ہلاک کرنے کا حکم دینے اور اس عمل میں معاونت کرنے کا مرتکب ٹہرایا گیا۔

صلاح الدین چودھری حزب مخالف کی ایک اہم جماعت 'بنگلہ دیش نیشنل پارٹی' کے رکن ہیں اور چھ مرتبہ پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔

مسڑ چودھری کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اُن کی جماعت کے رہنما کے خلاف سیاسی بنیادوں پر یہ مقدمہ بنایا گیا۔

بنگلہ دیش کا یہ خصوصی ٹربیونل کم از کم چھ افراد کو جنگ آزادی کے دوران جرائم میں ملوث ہونے پر سزائیں سنا چکا ہے۔

رواں سال کے آغاز میں اس ٹربیونل کی طرف سے سزائیں سنائے جانے کے بعد ہونے والے مظاہروں میں اب تک کم از کم 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

منگل کو بھی جب فیصلہ سنایا گیا تو اُس وقت کمرہ عدالت کے اندر اور باہر سکیورٹی انتہائی سخت تھی۔

اس سے قبل بھی بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کا خصوصی ٹربیونل جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو 1971 میں آزادی کی تحریک کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم پر سزائیں سنا چکا ہے۔

جماعت اسلامی اور اس کی اتحادی پارٹی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ حکمران عوامی لیگ نے جنگی جرائم سے متعلق ٹربیونل سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے تشکیل دیا۔
XS
SM
MD
LG