رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو بھی ’می ٹو‘ کی زد میں


فائل فوٹو

بھارتی فلم انڈسٹری بالی ووڈ کے بعد اب کرکٹ بورڈ بھی ’می ٹو‘ تحریک کی زد میں آگیا ہے۔ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر راہول جوہری کا نام ’می ٹو‘ پوسٹ میں آنے کے بعد سپریم کورٹ نے کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرز (CoA) مقرر کر کے اُن سے ایک ہفتے میں وضاحت طلب کر لی۔

بھارتی مصنفہ ہریندھ کور نے متاثرہ خاتون کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کیا ہے جس میں راہول جوہری پر جنسی ہراسیت کے الزامات لگائے گئے۔

کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرزکے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ نامعلوم شخصیت نے ایک ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعے مسٹر جوہری کے خلاف جنسی ہراسیت کے الزامات سامنے آئے۔ یہ الزامات ایک بڑے میڈیا ہاؤس میں اُن کی پچھلی ملازمت سے متعلق ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ الزامات اُن کی بھارتی کرکٹ بورڈ میں ملازمت سے متعلق نہیں ہیں تاہم کمیٹی مناسب سمجھتی ہے کہ راہول جوہری سے ان الزامات پر وضاحت طلب کی جائے۔

راہول جوہری بھارتی کرکٹ بورڈ کی پہلی ہائی پروفائل شخصیت ہیں جن کا نام ’’#MeToo‘‘ میں آیا ہے۔

راہول جوہری جون 2016ء سے بھارتی کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے پر کام کررہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے 2001ء سے 2016ء تک ڈسکوری نیٹ ورکس ایشیا پیسفک کے ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ اینڈ جنرل منیجر برائے جنوبی ایشیاءکے طور پر کام کیا۔

بھارت میں ’می ٹو‘ تحریک کا آغاز بالی ووڈ کے سینئر اداکار نانا پاٹیکر پر ساتھی اداکارہ تنوشری دتہ کے جنسی ہراسیت کے الزامات سے ہوا۔

ان کے بعد کئی خواتین نے عوامی شخصیات جن میں بھارتی سیاست دان اور وزیرمملکت برائے امورخارجہ مبشر جاوید(ایم جے) اکبر، سینئر اداکار الوک ناتھ، اداکار و ہدایت کار رجت کپور، گلوکار کیلاش کھر، انو ملک، گلوکار ابھیجیت بھٹاچاریہ، فلم ساز وکاس بہل، فلم ساز ساجد خان اور سبھاش گھئی وغیرہ پر بھی پر اس نوعیت کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG