رسائی کے لنکس

اب گلیشیئرز تجربہ گاہوں اور عجائب گھروں میں ملا کریں گے


الیمانی سلسلہ کوہ کی برفانی چوٹیوں کا ایک منظر، فائل فوٹو

سائنس دانوں نے الیمانی کے پہاڑی سلسلے سے 18 ہزار سال پرانی برف کے 75 نمونے اکھٹے کیے ہیں اور انہیں انٹارکٹکا لے جایا جا رہا ہے۔

بولیویا کے دارالحکومت لاپاز سے الیمانی کی پہاڑی چوٹیوں پر جمی ہوئی سفید اجلی برف ایک خوبصورت نظارہ پیش کرتی ہے۔ یہ منظر اتنا دلکش اور من موہ لینے والا ہے کہ مقامی زبان آئمارا کے گیتوں، شاعری، قصے کہانیوں اور ادب میں اس کا کثرت سے ذکر ملتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ برف ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی۔

لیکن اس دنیا کی ہر چیز فانی ہے۔ اس قدیم گلیشیئر پر گلوبل وارمنگ نے اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں۔ الیمانی کا گلیشیئر تیزی سے پگھل رہا ہے اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چند ہی برسوں میں یہ علاقہ برف سے خالی ہو جائے گا۔

سائنس دان فی الحال گلیشیئر کو تو پگھلنے سے نہیں بچا سکتے البتہ انہوں نے اس کے کچھ ٹکڑے محفوظ کرنے شروع کر دیے ہیں۔ اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے، جو گلیشیئر کو تو نہیں دیکھ سکیں گی لیکن اس کے ٹکڑوں پر یہ تحقیق کر سکیں گی کہ ہزاروں سال پرانی برف کے روٹھنے میں أصل کردار کس کا ہے۔

ان دنوں الیمانی کے پہاڑی سلسلے میں ایک عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ وہاں سائنس دانوں کی نگرانی میں گلیشیئر پر کھدائی کا کام ہو رہا ہے اور برف کے ٹکڑوں کو مخصوص قسم کے ٹرکوں میں لادا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی سائنس دانوں کا ایک 15 رکنی گروپ اینڈیر کے علاقے میں گلیشیئر کی کھدائی کی نگرانی کر رہا ہے۔ انہوں نے قدیم برف کے نمونے اکھٹے کرنے کے لیے 130 میٹر سے زیادہ کھدائی کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ برف کی نچلی تہہ 18 ہزار سال پرانی ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ برف ختم ہونے سے الیمانی سلسلہ کوہ کا حسن ہی ختم نہیں ہو گا بلکہ اصل پریشانی ان سیکڑوں آبادیوں کو ہو گی جن کی روزمرہ زندگی کا انحصار وہاں سے آنے والے تازہ پانی پر ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گلیشیئر پگھلنے کے بعد علاقے میں ہلاکت خیز برفانی طوفانوں اور برفشاروں کا خطرہ کئی گنا بڑھ جائے گا۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ 18 برسوں کے دوران اس علاقے کے أوسط درجہ حرارت میں پون ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہو چکا ہے اور اس میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔

سائنس دانوں نے اس علاقے سے 18 ہزار سال پرانی برف کے 75 نمونے اکھٹے کیے ہیں اور انہیں انٹارکٹکا لے جایا جا رہا ہے۔

سائنس دان برف کے ان قدیم ٹکڑوں کو مستقبل کی تحقیقی سرگرمیوں کے لیے محفوظ کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہاں ایک خصوصي لیبارٹری قائم کرنا چاہتے ہیں۔

گلیشیئروں کے ایک ماہر پیٹرک گیناٹ نے خبررساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ ہم گلیشیئر کے ان ٹکڑوں کو اس لیے محفوظ کررہے ہیں کیونکہ یہ ہماری آب و ہوا اور ماحولیات کے انسائیکلوپیڈا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ گلیشیئر کے ان ٹکڑوں سے دنیا کی تاریخ کا کھوج لگا سکتے ہیں۔

گلیشیئرز کی تحقیق سے متعلق گروپ نے بتایا کہ وہ اس سے پہلے اپیلس کے ماونٹ بلینک سے بھی برف کے نمونے اکھٹے کر چکا ہے اور اس کے بعد گروپ کے سائنس دان روس اور نیپال جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پہاڑوں کی برف کا مستقبل سائنسی لیبارٹریاں بن رہی ہیں، لیکن تیزی سے گرم ہوتے ہوئے کرہ ارض میں انسان کا مستقبل کیا ہوگا۔۔۔۔ کوئی نہیں جانتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG