رسائی کے لنکس

logo-print

سراجیوو: پوپ کی دیرپہ امن و یگانگت کو فروغ دینے کی اپیل


پوپ نے یاد دلایا کہ بوسنیا کے عوام نے کئی مشکلات جھیلیں، جن میں پناہ گزیں خیموں میں رہائش، تباہ شدہ گھر اور کارخانے، بے گھر لوگ اور تباہ حال زندگی کی صورت حال شامل تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ ’پھر کبھی جنگ نہیں ہونی چاہیئے‘

پوپ فرینسس نے بوسنیا کے عوام پر دیرپہ نسلی اور مذہبی امن و یگانگت پیدا کرنے پر زور دیا ہے، تاکہ 1990ء کی دہائی کی جنگِ بلقان کے نتیجے میں آبادی میں پیدا ہونے والی شدید تقسیم پر حاوی پایا جاسکے۔

اُنھوں نے یہ بات ہفتے کو سراجیوو کے اسٹیڈیم میں منعقدہ عبادت کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں تقریباً 65000 افراد شریک تھے، جو سابق یوگوسلایہ میں نسلی اور مذہبی تنوع کے جذبات کا غماز ہے۔

پوپ نے یاد دلایا کہ بوسنیا کے عوام نے کئی مشکلات جھیلیں، جن میں پناہ گزیں خیموں میں رہائش، تباہ شدہ گھر اور کارخانے، بے گھر لوگ اور تباہ حال زندگی کی صورت حال شامل تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ ’پھر کبھی جنگ نہیں ہونی چاہیئے‘۔

بوسنیا کی سہ رکنی صدارت کے سرب چیرمین، ملادن اوانک کے ہمراہ ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں، پوپ فرینسس نے کہا کہ کروٹس، سربس اور بوسنیائی لوگوں کے درمیان امن اور یگانگت پیدا کرنے کے علاوہ اِن کوششوں کو مزید وسعت دے کر مسلمان، یہودیوں اور مسیحیوں کو بھی شامل کیا جانا چاہئے، تاکہ سرحدوں سے بالاتر ہوکر اہمیت کے حامل کام کیے جاسکیں۔

مسٹر اوانک نے اس خیال کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ بوسنیا کے عوام نے غلط فہمیوں، عدم برداشت اور تقسیم کو قصہٴپارینہ قرار دے دیا ہے۔ ہم نے ماضی سے سبق سیکھا ہے۔ ایک نیا دور ہمارے سامنے ہے۔۔۔۔ جو دلیل کا دور ہے، امن کا دور اور تعاون کا دور ہے۔

ایک کیتھولک کبوتر باز ایک کبوتر لائے جسے بوسنیا کے تین سابق صدور اور پوپ فرینسس نے تقریب کے اختتام پر، امن کی علامت کے طور پر رہا کیا۔

وٹیکن کے اعداد و شمار کے مطابق، بوسنیا کثیر نسلی اور کثیر مذہبی آبادی والا ملک ہے، جس کی 40 فی صد آبادی بوسینائی، 31 فی صد قدامت پسند مسیحی سرب، جب کہ 15 فی صد کیتھولک کروٹس پر مشتمل ہے۔

XS
SM
MD
LG