رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: جے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پر ہجوم کا نوجوان پر مبینہ تشدد


فائل فوٹو

بھارت کی ریاست اُتر پردیش کے ضلع چندولی میں ایک گروہ نے مبینہ طور پر ایک مسلمان لڑکے کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد آگ لگا دی ہے۔

اُتر پردیش میں چند افراد کے ایک گروہ نے ایک مسلمان لڑکے کو مبینہ طور پر جے شری رام کا نعرہ لگانے کو کہا اور نوجوان کے نعرہ نہ لگانے پر اسے پیٹنے کے بعد مٹی کا تیل ڈال کر آگ لگا دی۔

متاثرہ لڑکا ایک مقامی اسپتال میں زیرِعلاج ہے جہاں اس کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکے کا جسم ساٹھ فی صد تک جل چکا ہے۔

متاثرہ نوجوان نے اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ دُدھاری پُل پر ٹہلنے گیا تھا جہاں سے چار افراد نے اسے اغوا کرلیا تھا۔

لڑکے کے مطابق اس سے جے شری رام کا نعرہ لگانے کو کہا گیا اور اس کے انکار کرنے پر اسے آگ لگا دی گئی۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکے کو آگ لگانے کا یہ معاملہ مشکوک دکھائی دیتا ہے۔

چندولی پولیس کے ایک افسر سنتوش کُمار سنگھ کے مطابق متاثرہ لڑکے نے لوگوں کو مختلف بیانات دیے ہیں جس کے باعث جے شری رام کا نعرہ لگوانے کی بات مشکوک نظر آتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ توہم پرستی کا معاملہ ہوسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی کو پھنسانے کے لیے یہ واردات انجام دی گئی ہو۔

واضح رہے کہ بھارت میں حالیہ دنوں میں ہجوم کے تشدد اور جے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پر لوگوں کو تشدد کے بعد ہلاک کر دینے کے متعدد واقعات ہو چکے ہیں۔

بھارت میں جھارکھنڈ کے ایک وزیر سی پی سنگھ نے اسمبلی ہاؤس کے باہر بھارت کی سیاسی جماعت کانگریس کے ایک رکنِ اسمبلی عرفان انصاری سے جبراً جے شری رام کا نعرہ لگانے کو کہا تھا۔

بھارتی وزیر کے اس واقعے کی ویڈیو بھارت میں ٹی وی پر بھی نشر کی گئی تھی جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ مسلمان بابر، تیمور، غزنی یا غزنوی کی نہیں بلکہ رام کی اولاد ہیں۔

علاوہ ازیں جھار کھنڈ میں ہی ایک مسلمان نوجوان تبریز انصاری کو ہجوم نے جے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پر تشدد کے بعد ہلاک کر دیا تھا۔

دہلی یونیورسٹی کے استاد اور سینئر تجزیہ کار پروفیسر اپوروانند کے بقول جے شری رام کے نعرے کو پہلے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور اب اسے اکثریتی طاقت کے مظاہرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے جے شری رام کے نعرے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایسے واقعات کی حمایت نہیں کرتے ہیں اور ایسے جرائم میں جو بھی ملوث پایا جاتا ہے اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG