رسائی کے لنکس

logo-print

کمپیوٹر مشینیں بھی اعلیٰ تعلیم کیلئے داخلہ لے سکیں گی


فائل فوٹو

مائیکروسوفٹ کے شریک بانی پال ایلن کے سی ایٹل میں قائم ’ایلن انسٹی ٹیوٹ برائے مصنوعی ذہانت‘ نے ایک نئی کمپیوٹر مشین متعارف کرائی ہے جس نے اپنی مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہوئے امریکہ کی آٹھویں جماعت کا سائنس کا امتحان پاس کر لیا ہے۔

ارسٹو نامی اس مشین نے اس امتحان میں 90 فیصد نمبر لیے ہیں، جبکہ اس نے 12 ویں جماعت کے سائنس ٹیسٹ میں بھی 80 فیصد نمبر حاصل کیے ہیں۔

گزشتہ کچھ عرصے سے امریکی سائنسدان ایک ایسا کمپیوٹر نظام تشکیل دینے کیلئے تحقیق کرتے رہے ہیں جو مختلف زبانیں سمجھ سکتا ہو اور منطقی استدلال اور فیصلہ سازی میں انسانوں کی پوری طرح سے نقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

ارسٹو کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ وہ سائنس کے کسی بھی سوال کے جواب کیلئے دی گئی مختلف چوائسز میں سے درست سوچ سمجھ کر درست جواب کا انتخاب کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

آٹھویں جماعت کے مذکورہ سائنس ٹیسٹ کے لیے ارسٹو کو وہی ٹیسٹ پیپر دیا گیا جو نیو یارک میں سکولوں کے طالب علموں کو دیا جاتا ہے۔ تاہم، ایلن انسٹی ٹیوٹ نے اس میں سے ایسے سوال حذف کر دیے تھے جو تصاویر یا ڈئیاگرام پر مبنی تھے کیونکہ ایسے سوالوں کیلئے اضافی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے جس میں منطقی نتیجہ اخذ کرنے اور زبان سمجھنے کے علاوہ الگ انداز کا کمپیوٹر ویژن بھی شامل ہو۔

اس سے قبل کوئی چار برس پہلے 700 کے لگ بھگ کمپیوٹر سائنسدانوں نے ایک ایسی مصنوعی ذہانت ایجاد کرنے کے مقابلے میں حصہ لیا تھا جو آٹھویں جماعت کا سائنس کا ٹیسٹ پاس کرنے کی اہل ہو۔ اس مقابلے کیلئے 80,000 ڈالر کا انعام رکھا گیا تھا۔ تاہم، ان تمام سائنسدانوں کی کمپیوٹر مشینیں یہ ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام ہو گئی تھیں۔ ان میں سب سے زیادہ پیچیدہ کمپیوٹر بھی اس ٹیسٹ میں 60 فیصد سے زیادہ نمبر حاصل نہ کر سکا۔ تاہم، آج بدھ کے روز ارسٹو کمپیوٹر مشین نے یہ کارنامہ سر انجام دے دیا ہے۔

مائیکروسوفٹ کے ایک محقق جنگجنگ لیو کا کہنا ہے کہ سائنس کا ٹیسٹ پاس کرنے کیلئے صرف سائنس کے کلیے اور ضابطے جاننا ہی کافی نہیں بلکہ اس کیلئے مختلف چیزوں میں منطقی انداز میں ربط قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اگر سوال یہ ہو کہ کسی علاقے میں گلہریوں کی آبادی کم ہونے کی وجوہات کیا ہیں تو اس کا جواب جنگلات میں لگنے والی آگ کو بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اگر جواب کیلئے چوائسز میں علاقے میں خوراک کی کمی یا انسانوں کی طرف سے انہیں ہلاک کرنا شامل ہو تو منطقی جائزہ لینے کی ضرورت ہو گی اور یوں ارسٹو جیسی کمپیوٹر مشین کو بھی منطقی استدلال اور مختلف چیزوں میں ربط پیدا کر کے نتیجہ اخذ کرنے کی اہلیت پیدا کرنا ہو گی۔

سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ارسٹو جیسی کمپیوٹر مشین نے مصنوعی ذہانت میں خاصی مہارت حاصل کر لی ہے، مشینوں کو اب بھی انسان طالب علموں کے سو فیصد ہم پلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

تاہم، مائیکروسوفٹ کے ریسرچرز کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں پیش رفت جاری رہے گی اور وہ دن دور نہیں جب کمپیوٹر روبوٹ سائنس کی ڈگری کا امتحان پاس کر کے انسانوں کی طرح اعلیٰ تعلیم کیلئے داخلہ لے سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG