رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ :حکومت کا لوگوں کو اضافی وٹامن ڈی لینے کا مشورہ


تاہم صحت کے حکام فکر مند ہیں کہ یہ اکیلے غذا کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا ہے خاص طور پر موسم سرما کے مہینوں میں وٹامن ڈی بنانے کے لیے کافی دھوپ کا ملنا اکثر مشکل ہو جاتا ہے۔

انگلینڈ کے عوامی صحت کے حکام کی طرف سے لاکھوں برطانوی عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ وٹامن ڈی کی کمی سے بچنے کے لیے کیپسول وغیرہ کی صورت میں روزانہ اضافی وٹامن ڈی لینے پر غور کریں۔

یہ بیان جمعرات کو سامنے آیا ہے جب ایک سرکاری کمیشن کی رپورٹ نے برطانیہ میں لوگوں کے لیے 20 مائیکرو گرام وٹامن ڈی کی یومیہ سفارش کا تعین کیا ہے۔

تاہم صحت کےحکام فکر مند ہیں کہ یہ صرف غذا کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا ہے خاص طور پر موسم سرما کے مہینوں میں وٹامن ڈی بنانے کے لیے کافی دھوپ کا ملنا اکثر مشکل ہو جاتا ہے۔

اور اب طبی ثبوتوں کا جامع جائزہ لینے کے بعد حکام کا کہنا ہے کہ ایک سال کی عمر سے اوپر ہر شخص کو ہڈیوں اور پٹھوں کی صحت کی حفاظت کے لیے ہر روز دس مائیکروگرام وٹامن ڈی لینے کی ضرورت ہے۔

حکام کے مطابق موسم سرما کے مہینوں میں لوگوں کو دس مائیکروگرام وٹامن ڈی سپلیمنٹس لینے پر غور کرنا چاہیئے اگر ان کی خوارک وٹامن ڈی فراہم نہیں کر رہی ہے۔

اور وہ لوگ جو دھوپ میں نہیں نکلتے ہیں یا سورج میں اپنے جسم کو مکمل طور پر ڈھانپ کر رکھتے ہیں انھیں سال بھر وٹامن ڈی سپلیمنٹس لینے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر لوئیس لیوی جو پبلک ہیلتھ انگلینڈ میں غذائیت سائنس کے سربراہ ہیں کہتے ہیں کہ ایک صحت مند متوازن غذا اور تھوڑی بہت دھوپ کا مطلب یہ ہے کہ لوگ موسم گرما اور موسم بہار کی ضرورت کے مطابق وٹامن ڈی حاصل کر سکتے ہیں۔

وٹامن ڈی کی کمی سے بچوں کو ہڈیوں کی بیماریوں اور سوکھے کی بیماری رکٹس لاحق ہو سکتی ہے اور یہ بیماری سنگین ہو سکتی ہے۔

برطانیہ میں سوکھے کی بیماری پر 1950ء میں قابو پا لیا گیا تھا لیکن گزشتہ دہائی میں ایسے کیسسز کی تعداد دو گنی ہو گئی ہے۔ برطانیہ کے اسپتالوں میں ہر سال اس بیماری میں مبتلا 450 بچوں کو داخل کرایا جاتا ہے۔

وٹامن ڈی کی محدود مقدار تیل والی مچھلی، انڈے، سرخ گوشت، جگر اور اناج وغیرہ میں شامل ہے لیکن وٹامن ڈی بنیادی طور پر جلد میں بنتا ہے جبکہ وٹامن ڈی کا تقریباً نوے فیصد براہ راست دھوپ پڑنے سے ہماری جلد میں بنتا ہے۔

غذا سےحاصل ہونے والی کیلشیم کو جذب کرنے کے لیے وٹامن ڈی کی سطح نارمل ہونا ضروری ہے کیونکہ کیلشیم دانتوں اور ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے لیے عین لازمی ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق برطانیہ میں ہر پانچ میں سے ایک بالغ فرد اور ہر چھ میں سے ایک بچہ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہے۔

XS
SM
MD
LG