رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ: یونیورسٹی طلبہ کے لیے شرعی قرضوں کی پیشکش


برطانوی حکومت نے 'تکافل' کا ایک ماڈل تیار کر لیا ہے جس کے تحت مسلمان طلبہ قرضوں پر سود ادا کرنے کے بجائے عطیات کی شکل میں رقم جمع کرائیں گے۔

برطانوی حکومت کی طرف سے مسلم طلبہ کے لیےشرعی قرضوں کا نظام متعارف کرایا جارہا ہے جس کے تحت یونیورسٹیوں کے مسلمان طلبہ کو شرعی اصولوں کے مطابق سود سے پاک تعلیمی قرضوں کی پیش کش کی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمان نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولے جاسکیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ستمبر 2012ء میں 'ہائر ایجوکیشنل فنڈنگ' میں تبدیلیوں کی وجہ سے ٹیوشن فیس میں بھاری اضافہ ہوا ہے جس کے باعث طلبہ کی بڑی تعداد کے پاس قرضہ لے کر تعلیم جاری رکھنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں۔

لیکن گزشتہ دو برسوں کے دوران قرضوں پر سود کی ادائیگی کی شرط کی وجہ سے مسلمان طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے پڑھائی کا سلسلہ ادھورا چھوڑ دیا ہے اور ان کے نئے داخلوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

اس صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئےحکومت کی طرف سےگزشتہ چار ماہ سے روایتی قرضوں کے ساتھ ساتھ ایک متبادل فنانس کا نظام متعارف کرانے کے لیےمشاورت کی جارہی تھی جس کا مقصد مسلم کمیونٹی اور وسیع پیمانے پر لوگوں کے خیالات جاننا تھا۔

مشاورت کی تجاویز پر رائے عامہ کے مثبت ردِ عمل کے نتیجے میں برطانوی حکومت کے 'ڈپارٹمنٹ فار بزنس انوویشن اینڈ اسکلز' نے شرعی اصولوں کے مطابق 'تکافل' کا ایک ماڈل تیار کر لیا ہے جس کے تحت مسلمان طلبہ قرضوں پر سود ادا کرنےکے بجائے عطیات کی شکل میں رقم جمع کرائیں گے۔

دور جدید میں تکافل کو روایتی انشورنس کا اسلامی متبادل کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے جس سے مراد باہم ایک دوسرے کا ضامن بننا ہے۔

اس نظام میں 'تکافل پُول' کے نظام کے تحت شراکت داری کی جاتی ہےاورکمپنی کے لیے ابتدائی فنڈنگ مہیا کی جاتی ہے جس میں تمام شرکا رسک کو شئیر کرتے ہیں اور باہمی اتفاق سے اصول وضوابط کے تحت مالی اثرات سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔

'بی آئی ایس' کی ویب سائٹ کے مطابق یونیورسٹی طلبہ کے نئے قرضوں کے لیے ابتدائی طور پریہ فنڈنگ شریعت ایڈوائزی کمپنی کی نگرانی میں کام کرے گی جو طلبہ کو ابتدائی فنڈنگ میں سے قرضے فراہم کرے گی۔

جب قرضے حاصل کرنے والے طلبہ خود کمانے کے قابل ہو جائیں گے تو طلبہ قرض لی گئی رقم کی ادائیگی کے لیے تکافل فنڈ میں حصہ ڈالیں گے جو کہ شرعی اصولوں کی رو سے عطیہ تصور کیا جائے گا اور اس طرح مزید طالبِ علم سود سے پاک قرضوں کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

امید ہے کہ یہ متبادل نظام اگلے تین برسوں کے اندر کام کرنا شروع کر دے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مسلمان طلبہ بھی روایتی قرضے حاصل کرنے والے طالب علموں کے مساوی رقم واپس ادا کریں گے۔

برطانوی یونیورسٹیاں اس وقت اوسطاً سالانہ 9000 پونڈز ٹیوشن فیس وصول کرتی ہیں جس کے لیے طلبہ 'اسٹوڈنٹس لون کمپنی ' سے قرضے حاصل کرتے ہیں جبکہ تعلیمی اخراجات کے علاوہ دیگر اخراجات پر اٹھنے والی رقم کے لیے بھی قرض لیتے ہیں۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایسے طلبہ جو سالانہ 21,000 پونڈز کمانے کے قابل ہو جاتے ہیں، انھیں اپنی سالانہ تنخواہ میں سے 9 فیصد رقم قرضے کی ادائیگی کے لیے دینا ہوتی ہے۔

XS
SM
MD
LG