رسائی کے لنکس

logo-print

آن لائن پورن گرافی نوجوانوں کے روزہ مرہ معمولات کا حصہ: رپورٹ


18 برس کے 800 نوجوانوں پر مشتمل ایک سروے میں معلوم ہوا ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت آسانی سے دستیاب آن لائن پورنوگرافی کے نقصانات اور اس کی لت کو برا سمجھتی ہے۔

آن لائن پورنوگرافی کی جڑیں ہمارے معاشرے میں کچھ اس طرح سرایت کر چکی ہیں کہ، نئی نسل یہ کہنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ، آن لائن سرگرمیوں کے دوران انھیں ہر روز اتفاقیہ طور پر فحش اور عریاں مواد کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ انٹرنیٹ پرناچاہتے ہوئے بھی فحش مواد تک رسائی حاصل کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔

ایک تازہ برطانوی سروے رپورٹ میں نوجوانوں کے آن لائن مشاغل اور سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کی گئی ہے اور آن لائن فحاشی کے منفی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

سروے میں شامل زیادہ تر برطانوی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ان دنوں غیر اخلاقی جملوں اور نازیبا تصاویراور ویڈیوز کا تبادلہ کرنا معمول کی بات بن چکا ہے اور وہ اسے اپنے روزمرہ معمولات کا حصہ تصور کرتے ہیں۔

"انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی ریسرچ" کی جائزہ رپورٹ کے مطابق، برطانیہ میں 11برس سے کم عمر بچے باقاعدگی سے آن لائن فحش مواد سے کسی نا کسی صورت میں سامنا کرتے ہیں جبکہ 14 برس کی عمر تک 54 فیصد بچے ویب پر فحش اور عریاں ویڈیوز دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔

18 برس کے 800 نوجوانوں پر مشتمل ایک سروے میں معلوم ہوا ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت آسانی سے دستیاب آن لائن پورنوگرافی کے نقصانات اور اس کی لت کو برا سمجھتی ہے۔

80 فیصد نوجوانوں نے بتایا کہ آن لائن فحش مواد تک رسائی حاصل کرنا کوئی مشکل بات نہیں ہے کیونکہ وہ خود اسکول کے دنوں میں ہی ویب کی تاریک دنیا سے واقف ہو چکے تھے۔

20 فصد نوجوانوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اسکولوں میں بامعنی جنسی تعلیم کے فقدان کی وجہ سے فحش مواد نوجوانوں کو غیر حقیقی رویوں کی جانب متوجہ کر رہا ہے جس کا اس نوجوان کی اخلاقیات اور اس کے رشتوں پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

سروے کے شرکاء کی نصف تعداد کا کہنا تھا کہ اگر ان کے لیے آن لائن پورنوگرافی تک رسائی اتنی آسان نہیں ہوتی تو ممکن ہے کہ ان کی تربیت اور کردار کا درجہ کہیں زیادہ بلند ہوتا۔

68 فیصد نوجوانوں نے اسکولوں میں اکیسویں صدی کی ضروریات کو پورا کرنے والی جنسی تعلیم کی حمایت کی جبکہ ہر تین میں سے ایک نوجوان کا کہنا ہے کہ پرائمری اسکول کے بچوں کو پورنوگرافی کے منفی اثرات سے آگاہ کیا جانا چاہیئے اور یہ ان کے لیے بہت بہتر ہوتا اگر انھیں پرائمری جماعتوں میں ہی جنسی تعلیم کے حوالے سے باشعور کر دیا جاتا۔

شرکاء نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اسکولوں میں اس قسم کی تعلیم فراہم کرنے کے لیے ماہرین کی ضرورت ہے لیکن ہرپانچ میں سے ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ یہ کام اساتذہ زیادہ بہتر طور پر انجام دے سکتے ہیں۔

انسٹیٹیوٹ کی سربراہ ڈالیا بین گلیم جن کی قیادت میں یہ سروے ہوا ان کا کہنا تھا کہ ، نوجوانوں کی زندگی میں آن لائن فحاشی کا زہر بھرا جا چکا ہے جس طرح آن لائن فحاشی نوجوانوں کے رویوں کی تشکیل کر رہی ہے وہ ایک بہت ہی پریشان کن صورت حال کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

گذشتہ دنوں اخبار "انڈیپینڈنٹ" کے ایک مضمون میں نوجوانوں کو درپیش خطرات کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے سابق مشیر انتھونی اسمائتھ نے کہا تھا کہ انٹرنیٹ ایک غیر قانونی جنگل کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے جو کہ بچوں کے استعمال کے لیے جلد ہی خطرناک ہو جائے گا۔

آن لائن سیفٹی این ایس پی سی سی کی سربراہ کلئیر للی نے خبردار کیا ہے کہ آن لائن پورنوگرافی بچوں کے اس نقطہ نظر پر اثر انداز ہو سکتی ہے جو ایک عام اور قابل قبول جنسی رویہ سمجھا جاتا ہے اس رجحان کی وجہ سے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ایک نمائش کی چیز سمجھنے لگے ہیں جبکہ دوسری طرف لڑکیاں خود کو فلم کی ادکارہ کے روپ میں پیش کرکے زیادہ پر کشش دکھائی دینا چاہتی ہیں۔

اساتذہ کی قومی یونین کی جنرل سیکرٹری کرسٹین بلوور نے کہا کہ جنس اور تعلقات کے حوالے سے با معنی تعلیم قومی نصاب کا ایک حصہ ہونا چاہیئے اگر آج اسکولوں میں ایسا نہیں ہوتا ہے تو نوجوانوں کو صحیح رہنمائی فراہم کرنے کا موقع کھو دیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG