رسائی کے لنکس

logo-print

ایک برطانوی بینک نے ٹیکس بچانے میں اپنے صارفین کی مدد کی: رپورٹ


لیکن ’ایچ ایس بی سی‘ بینک کا کہنا ہے کہ حالیہ سالوں میں اُس نے اپنے نظام میں "دور رس تبدیلیاں" کیں اور اب ضروری تفصیلی کے حصول پر سختی سے نفاذ کیا گیا ہے۔

تحقیقاتی صحافیوں کے ایک گروپ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کے سب سے بڑے بینک کی سوئیٹزرلینڈ میں ایک شاخ نے کئی سال قبل ٹیکس بچانے اور لاکھوں ڈالر کے اثاثے چھپانے میں دولت مند صارفین کی مدد کی۔

برطانیہ کے بینک ’ایچ ایس بی سی‘ نے اس رپورٹ پر اپنے ردعمل میں کہا کہ (قواعدوضوابط) کی تعمیل کے حوالے سے متعلق اس کی کوشیشں ناکافی رہیں۔ لیکن بینک کا کہنا ہے کہ حالیہ سالوں میں اُس نے اپنے نظام میں "دور رس تبدیلیاں" کیں اور اب ضروری تفصیلی کے حصول پر سختی سے نفاذ کیا گیا ہے۔

واشنگٹن میں قائم تحقیقاتی صحافیوں کے ایک بین الاقوامی اتحاد ’انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹیگیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے )‘ کی طرف سے اتوار کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بینک کی کئی سال پرانی خفیہ دستاویزات کو ظاہر کیا گیا ہے۔

ان دستاویزات کے مطابق برطانیہ کے سب سے بڑے بینک 'ایچ ایس بی سی' نے مبینہ طور پر بین الاقوامی جرائم پیشہ افراد، مشہور شخصیات، سیاستدانوں، شاہی خاندانوں کے افراد، کھلاڑیوں اور بڑی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کو اکاؤنٹس یعنی بینک کھاتوں (کی سہولت) فراہم کی۔

رپورٹ کے مطابق جرائم پیشہ افراد میں منشیات مافیا کے ارکان، اسلحہ ڈیلر اور ہیروں کے مفرور تاجر شامل ہیں۔

’آئی سی آئی جے‘ نے یہ خفیہ دستاویزات فرانسیسی اخبار لی موند کی مدد سے حاصل کی تھیں۔ ان میں دنیا بھر سے 100,000 سے زائد افراد کے متعلق تفصیلات موجود ہیں۔

اس رپورٹ کے منظر عام آنے کے بعد دولت مند افراد اور بین الاقوامی کمپنیوں کی طرف سے مہارت سے ٹیکس کے بچاؤ کی زیادہ سخت نگرانی کے مطالبات متوقع ہیں، جو کہ برطانیہ اور یورپ میں ایک اہم سیاسی مسئلہ ہے۔

XS
SM
MD
LG