رسائی کے لنکس

logo-print

برمی فوج کی جانب سے انتخابات کی تیاریوں پر امریکہ کو مایوسی


امریکی مندوب کرٹ کیمپبیل نے کہا ہے کہ جس طریقے سے برمی فوج نے 20 سالوں میں پہلی بار الیکشن کرانے کی تیاری کی ہے وہ ہمارے لیے بہت مایوس کن ہے.

رنگون کے دورے کے خاتمے پر پیر کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اوباما انتظامیہ کا خیال ہے کہ اس سال ہونے والے برمی انتخابات جائز اور منصفانہ نہیں ہونگے۔

انہوں نے برما کے فوجی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ فوری طور انتخابات منعقد کرنے کی تیاری کریں۔ انہوں نے اتوار کے روز برمی حکومت کے نمائندوں سے ملاقات کی لیکن وہ ملک کے اعلیٰ ترین راہنما جنرل تھان شوئے سے نہیں ملے۔

بعد میں وہ رنگون پہنچے اور وہاں امریکی معاون وزیر خارجہ کرٹ کیمپبل نے آنگ ساں سوچی سے ایک سرکاری گیسٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ برما کی جمہوریت نواز لیڈر گذشتہ 20 سال کےزیادہ تر عرصے کے دوران گھر میں نظر بند رہی ہیں۔ ان دونوں نے برما کے منتازع انتخابات پر گفتگو کی۔

ناقدین ان انتخابات کو ایک ایسا دھوکہ قرار دے رہے ہیں جس کامقصد فوج کو مسلسل اقتدار میں رکھنا ہے۔ لیکن برما کے کچھ سرگرم کارکنوں اور علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات نسبتاً زیادہ سیاسی اصلاحات کی جانب ایک قدم ثابت ہوسکتے ہیں۔

مسٹر کیمپبل کی یہ ملاقات اس کے صرف چند روز بعد ہوئی جب آنگ ساں سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فارڈیموکریسی کو سخت انتخابی قوانین کے تحت تحلیل کردیا گیا۔

انہوں نے اس سے قبل این ایل ڈی کے تقریباً 10 ارکان سے ملاقات کی، جنہوں نے برما کے ساتھ سخت تر رویہ اپنانے کے لیے واشنگٹن پر زور دیا ۔

گروپ کے ایک سینیئر رکن و ن ٹن نے کہا کہ آنگ ساں سوچی ان کے موقف کی تائید کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برما کی موجودہ سیاسی صورت حال کے بارے میں ہمارے اور آنگ ساں سوچی کے خیالات تقریباً ایک جیسے ہیں۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ اس صورت حال سے باہر نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ حکومت کے خلاف زیادہ سخت اقتصادی اور سیاسی اقدامات کیے جائیں۔

انتخابی قوانین کے تحت انتخابات میں حصہ لینے کے لیےپارٹیوں پر لازم ہے کہ وہ جیل میں موجود اپنے ارکان کو جماعت سے خارج کردیں جن میں آنگ ساں سوچی بھی شامل ہیں۔ بصورت دیگر وہ غیر قانونی قرار پائیں گی۔

نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس لیے اسے جمعے کےروز تحلیل کردیا گیا۔

این ایل ڈی کے کچھ سابق ارکان نے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نیشنل ڈیموکریٹ فورس کے نام سےایک نئی جماعت بنائی ہے۔

این ڈی ایف کے ایک رکن کہین ماؤنگ سوی نے مسٹر کیمپبل کو بتایا کہ نئی جماعت ان انتخابات کو ایک فراڈ سمجھتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم ان انتخابات میں حصہ نہیں لیتے تو پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی فورسز جیسی کوئی جمہوری طاقت موجود نہیں ہوگی۔ اوراس طرح وہ جوچاہیں گے کرسکیں گے۔ اس لیے ہم نے انتخابات میں مقابلے کا راستہ چنا ہے۔ یہی ہمارے لیے جمہوری راستے کی جانب جانے کا واحد موقع ہے۔لیکن یہ سب ایک دن میں نہیں ہوگا۔

این ایل ڈی نے 1990ء میں برما کے آخری انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی، لیکن فوج نے نتائج کو نظر انداز کردیا تھا اور پارٹی کے ہزاروں ارکان کو ہراساں کیا تھا اور جیل میں ڈال دیاتھا۔

حکومت کو ابھی انتخابات کے لیے تاریخ کا اعلان کرنا ہے، لیکن اسے 2008ء کے اپنے آئین کے تحت پارلیمنٹ کی ایک چوتھائی نشستوں کی ضمانت دے دی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG