رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیر میں حد بندی لائن کے آرپار بس سروس بحال


فائل فوٹو

پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے باعث تعطل کا شکار ہونے والی ایل او سی آرپار بس سروس بحال کر دی گئی ہے۔

بھارتی کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے درمیان تقریباً دو ماہ بعد بحال ہونے والی ہفتہ وار بس سروس کے ذریعے بھارتی کشمیر سے رشتہ داروں کو ملنے کے لیے آنے والی دو خواتین نے چکوٹھی سے کنٹرول لائن عبور کی۔

21 جنوری کو بس سروس سے جنگ بندی لائن کراس کرنے والے مسافر پلوامہ حملے کے نتیجے میں کشیدگی کے سبب بس سروس کی معطلی کی وجہ سے دو اطراف پھنس کر رہ گئے تھے۔

ان میں بھارتی کشمیر کے علاقے سوپور کی شاہدہ بیگم بھی شامل ہیں جو اپنی بھانجیوں کی شادی میں شرکت کے لیے مظفرآباد آئی ہوئی تھیں۔ وہ بس سروس کی معطلی کی وجہ سے اپنے بال بچوں کے لیے پرشان تھیں۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ آج بہت خوش ہیں کیونکہ وہ واپس اپنے گھر جاری ہیں۔

شاہدہ نے کہا کہ بس سروس میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ بچھڑے خاندانوں کے درمیان رابطے کا واحد اور آسان ذریعہ ہے۔

بچھڑنے والے کشمیری خاندانوں کے درمیان ملاپ کے لیے جنگ بندی لائن کے آرپار بس سروس کا آغاز 2005 میں عالمی برادری کی معاونت سے اعتماد سازی کے اقدام کے تحت کیا گیا تھا۔

سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان چلنے والی ہفتہ وار بس سروس کے ذریعے پیر کے روز بھارتی کشمیر کی پاکستانی کشمیر میں پھنسی دو خواتین چکوٹھی سے جنگ بندی لائن عبور کر کے واپس اپنے گھر پہنچیں۔ تاہم بھارتی کشمیر جانے والے پاکستانی کشمیر کا کوئی بھی مسافر ابھی تک واپس نہیں آ سکا۔

پاکستانی کشمیر میں حد بندی لائن کے آر پار سفر اور تجارت کے نگران ادارے ٹاٹا کے عہدیدار محمد شفیع نے کہا کہ دوسری طرف سے کوئی مسافر اس طرف نہیں آ سکا۔ انہوں امید ظاہر کی کہ انشااللہ آئندہ پیر کو بھی بس سروس ہو گئی۔

منقسم کشمیریوں کے درمیان روابط بڑھانے کے لیے 2008 میں شروع کی گئی تجارت بھی حالیہ کشیدگی کے باعث معطل ہے اور بھارت کی طرف سے پاکستان میں بعض عناصر پر اس تجارت کی آڑ میں ناجائز اسلحہ، منشیات اور کرنسی کی سمگلنگ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پاکستان نے بین الکشمیر تجارت کی معطلی کی مذمت کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG