رسائی کے لنکس

logo-print

’اسلامک اسٹیٹ کے خلاف امریکہ کو مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا‘


کانگریس مین چارلی ڈینٹ نے کہا ہے کہ عراق کا انتظام وہاں کی مقامی حکومت کے سپرد کرتے وقت ہم نے وہاں سے اپنی فورسز نکال لی تھیں۔ اگر وہاں 10000 کے لگ بھگ فوج رکھی جاتی تو اس سے کچھ مدد مل سکتی تھی

پنسلوانیا سے تعلق رکھنے والے ری پبلیکن کانگریس مین، چارلی ڈینٹ کا کہنا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ کے عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں روکنے کے لیے امریکہ کو زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامک اسٹیٹ یا آئی ایس آئی ایل کے جنگجو شام کے زیادہ تر شمال مشرقی علاقے اور عراق کے شمال مغربی علاقوں پر اپنا تسلط قائم کر چکے ہیں۔ اور ان کے پاس اپنی سرگرمیاں آگے بڑھانے کے لیے کافی جگہ موجود ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایک ملک کے طور پر یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم وہاں زیادہ کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ عراق کا انتظام وہاں کی مقامی حکومت کے سپرد کرتے وقت ہم نے وہاں سے اپنی فورسز نکال لی تھیں۔ اگر وہاں 10000 کے لگ بھگ فوج رکھی جاتی تو اس سے کچھ مدد مل سکتی تھی۔ لیکن، بدقسمتی سے عراق کے ساتھ وہاں فوج رکھنے کا معاہدہ طے نہیں پاسکا۔ اس کے نتیجے میں جو خلاٴ پیدا ہوا، اسے ہمارے مفادات کے خلاف کام کرنے والی قوتوں نے بھر دیا۔ یہ صورت حال مشرق وسطیٰ کے زیادہ تر حصوں میں پیش آئی اور خاص طور پر شام میں صورت حال زیادہ ابتر ہے۔ ہم نے امریکی قائدین کی حیثیت سےدنیا میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں کوئی بہتر کردار ادا نہیں کیا۔

کانگریس مین چارلی نے ان خیالات کا اظہار وائس آف امریکہ کے ٹیلی ویژن شو کیفے ڈی سی میں اردو سروس کے سربراہ فیض رحمٰن کے ساتھ اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔

کانگریس مین چارلی ڈینٹ کا شمار اعتدال پسند ری پبلیکنز میں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بعض موقعوں پر اپنی پارٹی پالیسی سے ہٹ کر حکومت کے موٴقف کی حمایت میں ووٹ دیا۔

کانگریس مین چارلی نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال کو ماضی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اقتصادی آزادی کے بارے میں جو سوچا گیا تھا اور جس کا کئی ملکوں نے فائدہ اٹھا کر خوش حالی حاصل کی، لیکن میرا خیال ہے کہ ان اصولوں پر کچھ زیادہ توجہ نہیں دی گئی، جس کی ضرورت تھی۔ اور وہ تھا دنیا کے مختلف حصوں میں امریکی فوجی قوت کی ٹھوس موجودگی ۔۔۔ہم نے امریکی ہونے کے ناطے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ اقتصادی قوت اور فوجی قوت ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ اب ہم کثیر قطبی دنیا کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ جہاں بہت سی جگہوں پر خلاٴ موجود ہیں اور مسائل جنم لے رہے ہیں۔ میں یہ کہوں گا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس وقت دنیا کو سب سے زیادہ تعداد میں تنازعات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور حماس ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں۔ یوکرین اور علیحدگی پسند روسی آپس میں لڑ رہے ہیں۔ اسلامک سٹیٹ شام اور عراق کے ایک بڑے حصے پر قابض ہوچکی ہے۔ اسی طرح، اگر آپ افریقہ پر نظر ڈالیں تو وہاں بھی مسائل اور تنازعات ہیں۔ سوڈان اور نائیجیریا کو مسائل کا سامنا ہے۔ لیبیا ابھی تک افراتفری کی صورت حال سے گذر رہا ہے۔ مصر بھی اخوان المسلمین کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد ابھی تک سنبھل نہیں سکا ہے۔

اسلامک اسٹیٹ کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ اور اس جنگ میں غیر ملکیوں، خصوصاً یورپی نوجوانوں کی عسکریت پسندوں کی جانب سے شرکت کو دنیا بھر میں تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ کانگریس مین چارلی، جو ہوم لینڈ سیکیورٹی کمیٹی کے ایک رکن بھی ہیں، کہنا تھا کہ شام اور عراق سے واپس جانے والے غیر ملکی جنگجو امریکہ کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا جب سے مشرق وسطیٰ میں اسلامک اسٹیٹ کے زیر قبضہ علاقے اور اس کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، ہوم لینڈ سیکیوررٹی کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ یورپ سے کئی لوگوں اسلامک اسٹیٹ کی جنگ میں ان کا ساتھ دینے کے لیے جارہے ہیں۔ وہاں وہ جنگی حربے سیکھ رہے ہیں اور جب وہ اپنے ملکوں کو واپس لوٹیں گے تو ان کے لیے خطرہ بن جائیں گے۔ اس لیے یہ شدید خطرہ موجود ہے کہ واپس آنے والے کئی جنگجو دوسرے ملکوں کا بھی رخ کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے، ہمیں بہت چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ہمیں سائبر حملوں کے خطرات کا بھی سامنا ہے۔ یہ انٹرنیٹ حملے، توانائی، کاروباروں، مالیات اور ہمارے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

افغانستان سے اس سال کے آخر تک امریکی لڑاکا فوجیوں کے انخلاٴ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کانگریس مین چارلی کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ ہم نے عراق سے جو سبق سیکھا تھا اس کا اطلاق افغانستان پر نہیں کرسکے۔ جب ہم عراق سے نکلے تو اس خلا کو دوسری قوتوں نے آکر بھر دیا۔اور ان کے سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا۔ جس کی ایک مثال نوری المالکی پر ایران کا گہرا اثر و رسوخ تھا جو امریکی مفاد میں نہیں تھا۔ اگر ہم افغانستان سے مکمل طور پر نکل جاتے ہیں تو وہاں بھی خلاٴ پیدا ہوگا اور دوسری قوتوں یہ جگہ لینے کے لیے آگے آئیں گی جس سے وہاں افراتفری، بے یقینی اور شورش کی وہ کیفیت پیدا ہوگی جو نائین الیون سے پہلے تھی۔

ری پبلیکز پارٹی سے تعلق رکھنے والے کانگریس مین چارلی نے یوکرین سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ امریکہ کے پاس اتنے وسائل اور اسباب نہیں ہیں کہ وہ دنیا بھر کے ہر فوجی معاملے میں خود کو شامل کرے۔ لیکن، اس کے ساتھ ساتھ، میرے ری پبلکنز ساتھیوں اور دنیا بھر میں ہمارے دوستوں کا خیال ہے کہ امریکہ کو بیرونی دنیا کے معاملات میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اوباما انتظامیہ کو بیرونی دنیا کے امور میں، مثال کے طور پر یوکرین اور مشرق وسطیٰ میں، امریکی کردار میں مزید اضافہ کرنا چاہیئے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ امریکی فوجیوں کو ہر جگہ اتار دیا جائے۔ لیکن، میں سمجھتا ہوں کہ یوکرین کےمعاملے میں امریکہ کو اپنے یورپی دوستوں پر روس کے خلاف مختلف شعبوں میں پابندیاں بڑھانے کے لیے زور دینا چاہیئے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ امریکہ اور یورپی یونین کو اقتصادی طور پر ایک دوسرے کے مزید قریب آنا چاہیئے۔ ایسا کرنا نہ صرف ان دونوں کے حق میں اچھا ہے، بلکہ اس کی ہماری سیکیورٹی اور جغرافیائی حکمت عملی کے حوالے سے بھی اہمیت ہے۔ روس جو کچھ یوکرین میں کر رہا ہے اور جس طرح وہاں علیحدگی پسندوں کو مدد دے رہا ہے، اس وجہ سے ضرورری ہے کہ ہم یوکرین کو وہ فوجی امداد فراہم کریں جس کی اس کو ضرورت ہے۔ لیکن، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم یوکرین پراثرانداز ہونے یا اسے نیٹو میں شامل کرنے یا یورپی یونین کا حصہ بنانے یا روس سے قطع تعلق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یوکرین ایک آزاد ملک ہے اور اسے اپنی مملکت کے بارے میں فیصلے آزادی کے ساتھ خود کرنے چاہئیں۔ لیکن، اسے روسی دخل اندازی سے بچانے کی ضرورت ہے۔

روس کے خلاف امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کے ردعمل سے نمٹنے کے سلسلے میں کانگریس مین چارلی کا کہنا تھا کہ اوباما انتظامیہ نے اپنے یورپی دوستوں کے ساتھ مل کر کچھ مناسب فیصلے کیے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہمیں یورپ کو زیادہ سے زیادہ مائع گیس فراہم کرنی چاہیئے۔ تاکہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے روس کی بجائے اپنے دوستوں پر زیادہ انحصار کرے۔ یوکرین سے ہٹ کر اگر دنیا پر نظر ڈالی جائے تو مشرق وسطیٰ میں ہمارےکئی دوستوں کو شکایت ہے کہ شام کے معاملے میں امریکہ کوئی خاص دلچسپی نہیں لے رہا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ امریکہ وہاں اپنے فوجی اتارے۔۔لیکن، عرب اسپرنگ کے موقع پر میرا خیال تھا کہ وہاں حزب اختلاف کی کوئی ٹھوس شکل و صورت بنانے میں امریکہ اپنا کردار ادا کرے۔ لیکن، انتظامیہ نے اس معاملے سے خود کو دور رکھنے کی پالیسی اختیار کی۔ اسی لیے، یہ کہا جاتا ہے کہ شام میں زیادہ مسائل کی ایک وجہ امریکہ کی لاتعلقی کی پالیسی ہے۔

حالیہ کچھ عرصے میں وسطی امریکہ سے بڑی تعداد میں بچوں کا غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرکے امریکہ داخل ہونے کا سلسلہ جاری ہے، جس سے امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ کانگریس مین چارلی نے اس مسئلے کو امریکہ کا سرحدی بحران قرار دیتے ہوئے کہا کہ وسطی امریکہ سے ہزاروں بچے سرحد عبور کر کے امریکہ میں داخل ہو رہے ہیں۔ ان میں سے کئی بچوں کے والدین پہلے سے امریکہ میں موجود ہیں اور وہ اپنے خاندانوں سے ملنا چاہتے ہیں۔ ہمیں قانون تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ وسطی امریکہ کو یہ پیغام دیا جائے کہ یہ سلسلہ قابل قبول نہیں ہے، اور دوسری طرف، یہاں آجانے والے بچوں کی انسانی بنیادوں پر دیکھ بھال کا انتظام کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے امیگریشن قانون کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کی غیر قانونی آمدروفت روکی جاسکے۔ آپ کو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس وقت امریکہ میں جتنے غیر قانونی تارکین وطن موجود ہیں۔ ان میں سے ایک تہائی ویزے کے ذریعے قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہوئے تھے۔ لیکن، اس کے بعد وہ کبھی واپس نہیں گئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ ایسے قوانین بنائیں جن کے تحت صرف وہ لوگ امریکہ میں داخل ہوسکیں جو ہمارے ملک کے لیے فائدہ مند ہوں نہ کہ وہ جو ہمارے وسائل بر بوجھ بن جائیں۔

کانگریس مین چارلی ڈینٹ کا شمار ایسے سیاست دانوں میں کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی محنت سے اپنا مقام بنایا۔ انہوں نے چھوٹی موٹی ملازمتوں سے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کیے اور یونیورسٹی آف پنسلوانیا اورLehigh یونیورسٹی سے ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ پنسلوانیا سے مسلسل پانچویں بار کانگریس مین منتخب ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG