رسائی کے لنکس

logo-print

حقانی نیٹ ورک کے محفوظ ٹھکانے بدامنی کا باعث رہے ہیں: خلیل زاد


ایمبسیڈر زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ اِس بات کے قائل رہے ہیں کہ پاکستان و افغانستان کے بہتر تعلقات دونوں ملکوں اور علاقے کے مفاد میں ہیں ’’جنھیں درست زاویہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت درکار رہی ہے‘‘

ایمبسیڈر زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ افغانستان میں ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ’’طالبان کا مسئلہ اور حقانی نیٹ ورک کے پاکستان میں محفوظ ٹھکانے رہے ہیں‘‘، اور یہ کہ ’’کسی مؤثر راہ، منصوبے یا حکمت عملی کی عدم موجودگی کے باعث، آپس کے تعاون اور اعتماد کی فضا میں افغانستان و پاکستان کے تعلقات فروغ نہیں پا سکے‘‘۔

جمعے کے ’وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ’کیفے ڈی سی‘ میں اردو سروس کے چیف، فیض رحمٰن کو ایک انٹرویو میں اُنھوں نے کہا کہ ’’یہی محفوظ ٹھکانے ہیں جہاں سے امریکی فوجیوں اور افغانوں کے خلاف حملے ہوتے رہے‘‘۔

خلیل زاد افغانستان و عراق میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں جب کہ وہ ایک نامور تعلیم داں اور تجزیہ کار ہیں۔

بقول اُن کے شروع ہی سے وہ ’’اس حقیقت کو جانتے تھے‘‘ جب کہ ’’کافی عرصے کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی کہ طالبان کی دھڑے بندی جاری ہے، جس سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مسئلے میں اضافہ ہوا‘‘۔

سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف کا ذکر کرتے ہوئے اُنھوں نے خصوصی تعلقات کا ذکر کیا اور کہا کہ اُس وقت کی حکومت امریکہ کے ساتھ تعاون کر رہی تھی جب نیٹو کو پاکستان کے راستے رسد جایا کرتی تھی، پاکستان میں امریکی جہاز کھڑے ہوتے تھے اور القاعدہ کے لیڈر پکڑے جاتے تھے جنھیں امریکہ کے حوالے کیا جاتا تھا؛ جن اقدامات کو دوستانہ قرار دیا جاتا تھا۔

لیکن اُنھوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان تعلقات کے حوالے سے شکوک و شبہات موجود تھے جو بعد میں زیادہ کھل کر سامنے آئے۔

ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے بتایا کہ ’’اچھے اور برے طالبان‘‘ کی سوچ بعد کے دور میں سامنے آئی۔

اُنھوں نے یاد دلایا کہ سابق پاکستانی صدر کے دور میں وہ پاکستان گئے اور مشرف سے ملاقات میں افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ لیکن بقول اُن کے ’’بدقسمتی سے اِس ضمن میں کوئی خاص پیش رفت حاصل نہ ہو پائی‘‘۔

بقول اُن کے وہ ہمیشہ اس بات کے قائل رہے ہیں کہ پاکستان و افغانستان کے بہتر تعلقات دونوں ملکوں اور علاقے کے مفاد میں ہیں جنھیں درست زاوئیہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت درکار رہی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ 11 ستمبر 2001ء کے بعد والے اور آج کے افغانستان میں ’’بہت زیادہ فرق ہے‘‘ اور ’’کئی اعتبار سے افغانستان میں بہتری آئی ہے، جس میں عام رہن سہن، صحت و تعلیم کا معیار شامل ہے‘‘۔

جب اُن سے مشرق وسطیٰ میں داعش کے بارے میں سوال کیا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ اس کا سبب کسی حد تک مغرب کی پالیسیوں سے ناراضی کے علاوہ، ایران، سعودی عرب اور ترکی کی متحارب پالیسیاں ہیں، جو حالات میں بگاڑ کا باعث بنی ہیں، جس کی شروعات عراق اور شام میں شیعہ سنی کی نااتفاقی کے فروغ سے ہوا۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ نوجوان جنھیں روزگار کے مواقع میسر نہیں اور وہ جو مغرب سے نالاں سوچ رکھتے تھے اُنھوں نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کی راہ اپنائی جس نے بڑھتے بڑھتے داعش کا روپ دھارا۔

اُنھوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے مسلمانوں میں معتدل سوچ کو فروغ دیا جائے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ’’معتدل انداز فکر ناپید ہوگئی ہے، جب کہ پُر تشدد انتہا پسندی شدت اختیار کر چکی ہے‘‘۔

بش دور میں عراق پر امریکی حملے کے بارے میں سوال پر اُنھوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں خفیہ اطلاعات اس کا سبب بنییں، جب کہ فی الواقع، یہ اطلاعات درست ثابت نہیں ہوئیں۔

XS
SM
MD
LG