رسائی کے لنکس

logo-print

مصر: پُر تشدد کارروائی کا خوف، احتجاجی جلوس منسوخ


سکیورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین پر طاقت کے استعمال پر مصری حکومت کو عالمی برادری کی طرف سے مذمت کا سامنا کرنا پڑا۔

اتوار کے روز مصر کی کابینہ نے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔ جس میں مصر سے بے دخل کیے جانے والے صدر محمد مورسی کے حامیوں کی جانب سے دو بڑے احتجاجی جلسوں کی منسوخی کی بابت بات کی گئی۔ یہ احتجاجی جلوس، سیکورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال کے امکان کی وجہ سے منسوخ کیے گئے۔


اتوار کا روز گذشتہ کئی دنوں میں ایک خاموش دن تھا۔ بدھ کے روز مصر کی سیکورٹی فورسز نے مصر کے بے دخل کیے جانے والے صدر محمد مرسی کے حامیوں کا کریک ڈاؤن شروع کیا تھا۔ اس کارروائی میں 800 افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں سیکورٹی فورسز کے بھی چند اہلکار شامل ہیں۔

اس سے قبل محمد مرسی کے حامیوں کی جانب سے اتوار کے روز دو احتجاجی جلسے منعقد ہونا تھے مگر پھر انہیں یہ کہہ کر منسوخ کر دیا گیا کہ راستے میں ماہر نشانہ باز تعینات کیے گئے ہیں۔

دوسری طرف گزشتہ ماہ ملک کے پہلے جمہوری منتخب صدر کو برطرف کیے جانے بعد سے قائم عبوری حکومت ملک میں اسلام پسند تنظیم اخوان المسلمین پر پابندی لگانے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔

صدر بننے سے پہلے مسٹر مرسی اخوان المسلمین کے سینئیر رکن تھے اور ابھی بھی ان کے حامیوں کی بڑی تعداد اخوان المسلمین سے تعلق رکھتی ہے۔

سکیورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین پر طاقت کے استعمال پر مصری حکومت کو عالمی برادری کی طرف سے مذمت کا سامنا کرنا پڑا۔

اتوار کے روز مصر کے وزیر ِ خارجہ نبیل فہمی نے امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے مصر کے حالات پر سخت تبصرے کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ، ’صدر اوباما نے مصر میں حکومت کی جانب سے طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے تمام جماعتوں کی جانب سے تشدد کی بھی مذمت کی ہے۔ مگر انہوں نے مصر اور امریکہ کے تعلقات اور انہیں جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ہم صدر اوباما کی تقریر کے تمام جزئیات پر غور کر رہے ہیں اور تفصیل سے اس کا تجزیہ کریں گے۔‘
XS
SM
MD
LG