رسائی کے لنکس

دماغی امراض کا بلی پالنے سے کوئی تعلق نہیں


استنبول میں بلیوں کے عالمی مقابلے میں شامل ایک بلی۔ اکتوبر 2016

ڈاکٹر سومی کا کہنا تھا کہ اگر ہم گھر میں لوگوں کی زیادہ تعداد اور سماجی و اقتصادی جیسے عوامل کو سامنے رکھیں تو پھر دماغی بیماری کا إلزام بلی پر نہیں تھونپا جا سکتا۔

بلی پالنے والوں کے لیے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ ان رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں کہ بلیوں کے ساتھ رہنے والوں میں دماغی امراض میں مبتلا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے ایک اسکالر نے طبی جریدے سائیکاجیکل میڈیسن میں شائع ہونے والی اپنی تحقیق میں کہا ہے کہ بلیوں سے منسلک کرم، جنہیں ٹوکسوپلازمہ گونڈی کہا جاتا ہے اور جن کا تعلق دماغی صحت کے مسائل سے ہے، ان لوگوں میں دماغی امراض کا سبب نہیں بنتا جن کا وقت زیادہ تر بلیوں کے ساتھ گذرتا ہے۔

تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر فرانسسکا سومی کا کہنا ہے کہ بلی پالنے والوں کے لیے واضع پیغام یہ ہے کہ ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ جو بچے بلیوں کے ساتھ کھیل کود کر بڑے ہوتے ہیں ، ان کی دماغی صحت کو خطرہ پیش آسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کے سائنسی مطالعے بلی پالنے والوں اور دماغی بیماری کے درمیان مناسب تعلق قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ بلی پالنے اور دماغی بیماری کے درمیان خفیف تعلق کو دوسرے عوامل رد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم گھر میں لوگوں کی زیادہ تعداد اور سماجی واقتصادی جیسے عوامل کو سامنے رکھیں تو پھر دماغی بیماری کا إلزام بلی پر نہیں تھونپا جا سکتا۔

اپنی اس تحقیق کے دوران ماہرین نے 1991 یا 1992 کے دوران پیدا ہونے والے 5 ہزار افراد کو 18 سال تک اپنے ساتھ شامل رکھا۔ ان میں وہ مائیں بھی تھیں جن کے پاس اس وقت سے بلی موجود تھی جب وہ حمل سے تھیں اور وہ بچے بھی شامل تھے جو بلی کے ساتھ کھیلتے ہوئے بڑے ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG