رسائی کے لنکس

logo-print

کیمسٹری کا نوبیل انعام ’ارتقائی طاقت‘ کی اساس نمایاں کرنے والے سائنس دانوں کے نام


’روئل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز‘ نے بدھ کے روز 10 لاکھ ڈالر کی رقم کا اعلان کیا، جو اس انعام کا حصہ ہے

دو امریکی سائنس دانوں اور ایک برطانوی سائنسداں نے کیمسٹری کا نوبیل پرائز جیتا ہے، جنھوں نے 'جینیٹک چینج‘ اور نت نئے مادوں، دواسازی اور ’بایوفیوئلز‘ کی پیداوار کے سلسلے میں چھانٹی کے طریقہ کار تلاش کرنے کے حوالے سے اہم کام کیا ہے۔

’رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز‘ نے بدھ کے روز 10 لاکھ ڈالر کی رقم کا اعلان کیا، جو اس انعام کا حصہ ہے۔

امریکی سائنس دان، فرینسز ارنالڈ کو ’’اینزائمز‘‘ کے ارتقائی کام کو بنیادی قرار دیا گیا، جس میں قدرتی چناؤ کے اصلوں کو مد نظر رکھا گیا تھا، تاکہ نئی پروٹینز پیدا کی جائیں جن کی مدد سے کیمیائی رد عمل کو تیز تر کیا جا سکتا ہے۔

اکیڈمی نے کہا ہے کہ لیبارٹری میں ارنالڈ کے کام کی بدولت پروٹینز سے حاصل شدہ نتائج ارتقائی مراحل میں کئی گنا تیزی کا موجب بنتے ہیں، جن میں سودمند خاصیتیں موجود ہوتی ہیں۔

امریکی، جارج اسمتھ کو نئے ’پھیج ڈسپلے‘ تلاش کرنے پر انعام کے قابل قرار دیا گیا، جن کی تحقیق کی بنیاد ایک وائرس ہے جو بیکٹریا کو متاثر کرتا ہے، تاکہ نئی پروٹینز ایجاد ہوں۔

برطانوی تحقیق کار گریگری ونٹر انعام جیتنے والے تیسرے فرد ہیں جنھوں نے ’پھیج ڈسپلے‘ کے استعمال سے ’اینٹی بوڈیز‘ ایجاد کیں، تاکہ نئی دواسازی کی داغ بیل ڈالی جا سکے۔

اکیڈمی نے کہا ہے کہ ’گھٹیا نما ورم‘، خارش، خواہش کو حقیقت منوانے کی بیماری اور سرطان کا جسم کے ایک حصے سے دوسرے میں پھیلنے جیسی حالت سے نمٹنے کے لیے درکار ادویات بنانے کےکام کو انعام کے قابل قرار دیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG