رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں 'چنئی ٹیسٹ' یادگار قرار


ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سے قبل پی سی بی نے ایک سروے کیا جس میں شائقین نے چنئی ٹیسٹ کو پاکستان کا یادگار ترین ٹیسٹ قرار دیا ہے۔

پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں بھارت کے شہر چنئی میں 1999 میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ کو یادگار قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے آغاز سے قبل یہ جاننے کی کوشش کی کہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پاکستان کا سب سے یادگار ٹیسٹ کون سا تھا؟۔

اس مقصد کے لیے پی سی بی نے فیس بک اور ٹوئٹر پر شائقین کرکٹ کے سامنے چار بہترین ٹیسٹ میچ رکھے جن میں 1954 کا انگلینڈ کے خلاف اوول ٹیسٹ، 1987 میں بھارت کے خلاف بنگلور ٹیسٹ، 1994 میں آسٹریلیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ اور 1999 میں بھارت کے خلاف کھیلا جانے والا چنئی ٹیسٹ شامل تھا۔

ان چاروں ٹیسٹ میچز کا انتخاب پی سی بی کے ایک پانچ رکنی پینل نے کیا جس میں بینی ٹک برمنج، مظہر ارشد، ڈاکٹر نعمان نیاز، عثمان سمیع الدین اور قمر احمد شامل تھے۔

​ان چاروں میچز میں سے بہترین میچ کے انتخاب کے لیے 26 جولائی سے 29 جولائی تک شائقین نے ووٹنگ میں حصہ لیا جس کے دوران 15 ہزار 847 ووٹ کاسٹ کیے گئے۔

پی سی بی کے ٹوئٹر اور فیس پر پوچھے گئے سوال پر عوامی رائے کے بعد آنے والے نتائج کے مطابق 65 فیصد افراد نے وسیم اکرم کی قیادت میں بھارت کے خلاف کھیلے گئے چنئی ٹیسٹ کو پاکستان ٹیسٹ کی تاریخ کا سب سے یادگار ٹیسٹ قرار دیا۔

یہ سنسنی خیز ٹیسٹ میچ 28 سے 31 جنوری کو کھیلا گیا جس میں پاکستان نے بھارت کو 12 رنز سے شکست دی۔

چنئی ٹیسٹ میں اسپنر ثقلین مشتاق نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا تھا۔
چنئی ٹیسٹ میں اسپنر ثقلین مشتاق نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا تھا۔

​اس میچ کی خاص بات شاہد آفریدی کی دوسری اننگز میں 141 رنز کی شاندار اننگز اور ثقلین مشتاق کی پانچ وکٹیں تھیں۔

پاکستان نے بھارت کو اس سے قبل 1987 میں اُسی کی سرزمین پر کھیلے گئے بنگلور ٹیسٹ میں شکست دی تھی۔

وسیم اکرم کی قیادت میں پاکستان نے بھارت کو چنئی ٹیسٹ میں 12 رنز سے شکست دی تھی۔
وسیم اکرم کی قیادت میں پاکستان نے بھارت کو چنئی ٹیسٹ میں 12 رنز سے شکست دی تھی۔

​چنئی ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم کی قیادت کرنے والے وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ جس نے چنئی ٹیسٹ دیکھا ہے اُسے میچ کی سنسنی، جذبات اور دباوؑ کا اندازہ ہوگا، اگر کوئی شخص جاننا چاہتا ہے کہ میچ میں دباوؑ کس طرح آتا ہے اور اس سے کیسے نمٹا جاتا ہے تو اس کے لیے چنئی ٹیسٹ بہترین مثال ہے۔

شاہد آفریدی نے چنئی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں گیارہ اور دوسری اننگز میں 141 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ اسی کے ساتھ انہوں نے تین وکٹیں بھی حاصل کیں۔

شاہد آفریدی کے بقول انہیں خوشی محسوس ہورہی ہے کہ وہ اُس ٹیم کا حصہ تھے جسے شائقین نے پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا سب سے یادگار ٹیسٹ قرار دیا ہے۔

شاہد آفریدی نے دوسری اننگز میں 141 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔
شاہد آفریدی نے دوسری اننگز میں 141 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔

​انہوں نے کہا کہ چنئی ٹیسٹ میں سچن ٹنڈولکر اور نیان مونگیا کے درمیان 136 رنز کی پارٹنرشپ کے بعد وہ جیت کے بہت قریب پہنچ گئے تھے لیکن پھر بھی ہم پُرامید تھے کہ یہ ٹیسٹ جیتنے میں کامیاب رہیں گے۔

شاہد آفریدی نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے کیرئیر میں بہت کم اس طرح دیکھا ہے کہ فیلڈنگ کے دوران کھلاڑی جیت کی بھوک سے کھیل رہے ہوں اور ان کی باڈی لینگوج بھی جیت کے لیے ہی ہو۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کہتے ہیں انہیں خوشی ہے کہ شائقین کو چنئی ٹیسٹ اب بھی یاد ہے اور انہوں نے 1999 کی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کو بھی مبارکباد دی۔

انہوں نے کہا کہ دو دہائیاں گزرنے کے بعد بھی شائقین اس شاندار ٹیسٹ کی خوشی منار رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لیے انٹر نیشنل کرکٹ کونسل ٹیسٹ چیمپئن شپ کا انعقاد کرنے جارہی ہے جس کا آغاز یکم اگست سے ایشز سیریز سے ہونے جارہا ہے۔

ٹیسٹ چیمپئن شپ کے دوران آئی سی سی ٹاپ رینکنگ میں شامل نو ٹیمیں چھ چھ سیریز کھیلیں گی اور رینکنگ کی ابتدائی دو ٹیموں کے درمیان جون 2021 میں فائنل کھیلا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG