رسائی کے لنکس

چھتیس گڑھ میں ماؤ باغیوں سے جھڑپ میں 9 سیکیورٹی اہل کار ہلاک


بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ماؤ نوازوں کے حملے میں ایک فوجی ٹرک تباہ ہو گیا۔ فائل فوٹو

سہیل انجم

چھتیس گڑھ کے سکما ضلع میں ماؤ نوازو ں اور نیم مسلح دستے سی آر پی ایف کے مابین مڈبھیڑ میں 9اہل کار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ کیسٹا رام بلوڈی روڈ پر پیش آیا۔ ہلاک ہونے والوں کا تعلق سی آر پی ایف کی 212بٹالین سے ہے۔

نکسل مخالف آپریشن کے اسپیشل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈی ایم اوستھی کے مطابق ماؤنوازوں نے گشت کرنے والے ایک دستے کی اینٹی لینڈ مائن گاڑی کو بارودی سرنگ سے اڑا دیا۔ جس کے بعد سیکیورٹی اہل کاروں اور ماؤ نوازوں کے درمیان گولیوں کا تبادلہ شروع ہو گیا۔۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس واقعہ میں کئی اہل کار زخمی بھی ہوئے جن میں سے کئی ایک کی حالت نازک ہے۔ انہیں رائے پور کے اسپتال میں داخل کرایا جا رہا ہے۔ علاقے میں اضافی پولیس فورس بھیج دی گئی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ حملے میں تقریباً 150ماؤنوازون نے حصہ لیا۔ کافی دیر تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا جس دوران وہ بھاگ کر گھنے جنگلوں میں روپوش ہو گئے۔

اس واقعہ کے سلسلے میں پہلے سے ہی خفیہ اطلاع موجود تھی۔

وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ، کانگریس صدر راہل گاندھی، چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ رمن سنگھ اور مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے اہل کاروں کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

سکما ضلع میں دہائیوں سے نکسل باغیوں کی سرگرمیاں جا رہ ہیں اور وہاں ہلاکت خیز جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ ماؤ نوازوں نے گزشتہ سال مارچ میں بھی سی آر پی ایف کے 12 اور اپریل میں 24 اہل کاروں کو ہلاک کیا تھا۔

چھتیس گڑھ کے سینیر انٹیلی جینس عہدے داروں کے مطابق تلنگانہ اور چھتیس گڑھ پولیس کے مشترکہ آپریشن سے ماؤ نوازوں کو خاصا جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا ۔ 2 مارچ کو ایک کارروائی میں 10ماؤ نواز ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے انتقام لینے کے لیے یہ کارروائی کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG