رسائی کے لنکس

2016 میں سوا کروڑ بچے حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہے: رپورٹ


فائل فوٹو

بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کو موجودہ شرح سے دنیا بھر میں ہر سال 20 سے 30 لاکھ تک ایسے بچوں کی جان بچائی جا رہی ہے جو خناق، تشنج، کالی کھانسی اور خسرے سے ہلاک ہو جاتے تھے۔

صحت کے عالمی ادارے نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ہر دسویں یا تقریبا ایک کروڑ29 لاکھ چھوٹے بچوں کو 2016 کے دوران حفاظتی ٹیکے نہیں لگے۔

رپورٹ کے مطابق ان بچوں کو خناق، تشنج اور کالی کھانسی سے بچاؤ کی پہلی خوراک جسے ڈی ٹی پی 3 کہا جاتا ہے، نہیں مل سکی۔ جب کہ مزید 66 لاکھ بچے ایسے ہیں جنہیں ویکسین کی پہلی خوراک تو دی گئی لیکن گذشتہ سال وہ اس کی دوسری اور تیسری خوراک سے محروم رہے۔

صحت کے عالمی ادارے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سن 2010 سے ان بچوں کی تعداد 86 فی صد کی سطح پر ٹہری ہوئی ہے جو حفاظتی ٹیکوں کا معمول کا کورس مکمل کرتے ہیں۔ پچھلے سال کے دوران کسی علاقے یا کسی ملک میں اس صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔ جب کہ حفاظتی ٹیکوں کا عالمی ہدف 90 فی صد مقرر کیا گیا ہے۔

بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کو موجودہ شرح سے دنیا بھر میں ہر سال 20 سے 30 لاکھ تک ایسے بچوں کی جان بچائی جا رہی ہے جو خناق، تشنج، کالی کھانسی اور خسرے سے ہلاک ہو جاتے تھے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق عوامی صحت کے شعبے میں یہ مہم انتہائی موثر اور کم خرچ ہے۔

صحت کے عالمی ادارے کے 194 ملکوں میں ایک تہائی ملک حفاظتی ٹیکوں ڈی ٹی پی 3 کے لیے مقررہ 90 فی صد کا ہدف حاصل کر چکے ہیں۔

حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہنے والے بچوں کی اکثریت جنگ سے متاثرہ یا انتہائی غریبوں ملکوں میں رہتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG