رسائی کے لنکس

logo-print

چین میں سفری پابندیاں مزید سخت، وائرس کئی ممالک تک منتقل


فائل فوٹو

چین میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سفری پابندیوں کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ ووہان میں کاروں کے داخلے پر پابندی اور پبلک ٹرانسپورٹ کو معطل کر دیا گیا ہے جس سے شہر کی سڑکیں ویران ہو گئی ہیں۔

امریکہ اور فرانس نے شہریوں کو چین سے نکلنے کی ہدایات جاری کردی ہیں جب کہ سری لنکا بھی ایسے ہی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ ادھر کینیڈا میں بھی چین سے کرونا وائرس کی منتقلی کی اطلاعات ہیں۔

فرانس کے خبر رساں ادارے ' اے ایف پی' کی رپورت کے مطابق کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے ہوبی کا شہر ووہان پہلے ہی بند ہے جس سے سانس کے مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا ہے۔ چینی صدر ژی جن پنگ کا کہنا ہے کہ وائرس سے شدید خطرات لاحق ہیں۔

اتوار کو ٹریفک پولیس کی جانب سے ووہان میں ایک کروڑ دس لاکھ گاڑیوں کے سڑکوں پر نکلنے پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد شہر کی سڑکیں ویران ہو گئی ہیں۔

اتوار کو ہی بیجنگ سے مسافر بسوں کو بھی ووہان جانے سے روک دیا گیا۔

جنوبی شہر شانتو میں بھی اتوار کی صبح جزوی طور پر داخلہ روک دیا گیا جس کے تحت کاروں کے داخلے پر پابندی اور پبلک ٹرانسپورٹ کو معطل کردیا گیا۔

ٹرین کے ذریعہ ووہان پہنچنے والے مسافروں کی اسکریننگ بھی سخت کردی گئی ہے تاہم بیشتر افراد کو مشورہ دیا جا رہا ہے وہ وہ واپس چلے جائیں۔

اس سے قبل پیر کو ٹور گروپس پر پابندی لگادی گئی تھی جب کہ نجی دورے پر ووہان جانے والے لوگوں پر بھی جمعہ سے پابندی عائد ہے۔

ہلاکتوں میں اضافہ

نئی اموات کے بعد ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 56 ہوگئی۔ ان میں سے ہوبی میں سب سے زیادہ 15 افراد ہلاک ہوئے۔

اتوار کی صبح چین کے تجارتی حب کہے جانے والے شہر شنگھائی میں بھی پہلے کیس کے طور پر ایک مریض کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

ووہان کے بعد کسی بڑے شہر میں ہونے والی یہ پہلی موت کہی جارہی ہے۔

خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ وبا سمندری غذا اور زندہ جانوروں کی منڈی کے سبب شروع ہوا ہے۔

جمعہ سے شروع ہونے والے قمری کلینڈر کے آغاز کی خوشی میں ہونے والی تقریبات کو بھی روک دیا گیا ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کا اجلاس

دوسری جانب کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کے اجلاس میں کہا ہے کہ چین کو اس وائرس کے پھیلنے سے سنگین صورتحال کا سامنا کرنا ہے۔ اجلاس میں وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

چین کی فوج نے ووہان میں مریضوں کے علاج میں مدد کے لیے 420 ڈاکٹرز ووہان روانہ کیے ہیں۔

ایک خاتون جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھیں، انہوں نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ ڈاکٹر کو ایک مریض دیکھنے میں کم از کم پانچ گھنٹے لگتے ہیں۔ مریضوں کو جانچ پڑتال کے لیے دو، دو دن لائن میں لگنا پڑ رہا ہے۔

یہ وائرس چین سے پوری دنیا میں پھیل گیا ہے۔ فرانس، آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ سمیت اب تک ایک درجن سے زائد ممالک میں کرونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ووہان سے جانے والوں مریضوں کو وائرس کی منتقل کا ذمے دار قرار دیا جارہا ہے۔

امریکہ نے اپنے شہریوں کو چین سے نکل جانے کے لیے خصوصی پروازوں کا انتظام کیا ہے جب کہ فرانس اور سری لنکا بھی اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ایسے ہی اقدامات پر غور کر رہاہے۔

سری لنکا کا بیجنگ میں موجود سفارت خانہ اس حوالے سے معاملات کو حتمی شکل دے رہا ہے۔

ادھر کینیڈا میں بھی ایک مریض میں کرونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے جو کینیڈا میں سامنے آنے والا پہلا کیس ہے۔

ووہان میں مقیم ایک خاتون کا کہنا ہے کہ وہ احتیاطاً اور انفیکشن سے بچنے کے لیے ہوٹل تک محدود ہوگئی ہیں۔

اے ایف پی کے کو دیے ایک انٹرویو میں ووہان کے بیشتر باشندوں کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے حکومت جلد اس وبا کو شکست دے دے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG