رسائی کے لنکس

logo-print

چین اور بھارت کے درمیان اربو ں ڈالر کے اقتصادی معاہدوں پر دستخط


چینی صدر ژی جنپنگ کے دورہ بھارت کے دوسرے دن دونوں ملکوں نے ریلوے،کسٹمز اور خلائی شعبوں میں تعاون کے لیے 12 معاہدوں پر دستخط کیے۔

چین کے صدر ژی جنپنگ کے دورہ بھارت کے دوران دنوں ملکوں کے وفود کے درمیان جمعرات کو دہلی میں مذاکرات ہوئے۔

چینی صدر اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے اپنے ملکوں کے وفود کی قیادت کرتے ہوئے اقتصادی و سیاسی شعبوں کے علاوہ دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی جس کے بعد دونوں ملکوں نے ریلوے، کسٹمز اور خلائی شعبوں میں تعاون کے لیے 12 معاہدوں پر دستخط کیے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے چینی صدر کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "بھارت اور چین کے دوطرفہ تعلقات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے درمیان اعتماد ہو اور سرحد پر امن ہو"۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان دو روز کے دوران اقتصادی و سیاسی اور سلامتی کے امور سمیت تمام اہم معاملات پر بات چیت ہوئی ہے۔

بھارتی وزیراعظم نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔۔

چینی صدر نے اس موقع پر کہا کہ " چین اور بھارت کا سرحدی تنازع کافی عرصے سے دونوں ملکوں کے لیے پریشانی کا باعث رہا ہے۔ چین اور بھارت کی سرحد پر واضح حد بندی نہ ہو نے کے باعث چند ایک واقعات ہوئے ہیں اور اس کو جلد حل ہونا چاہیے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین سرحدی تنازع کے جلد حل کے لیے پرعزم ہے۔

چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع کی وجہ سے کشیدگی ہے اور اس معاملے پر دونوں ملکوں کے درمیان 1962 میں مختصر عرصے کے لیے جنگ بھی ہو چکی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان 1990 سے اس حوالے سے بغیر کسی اہم پیش رفت کے مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔

نریندر مودی نے اس سال مئی میں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اس مسئلے پر بات چیت کے لیے ابھی تک کسی نمائندے کو مقرر نہیں کیا ہے۔

صدر ژی جنپنگ نے کہا کہ چین آئندہ پانچ برسوں میں بھارت میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ انھوں نے بھارتی وزیراعظم کو چین کا دورہ کرنے کی بھی دعوت دی۔

انہوں نے کہا کہ چین اور بھارت دنیا کی اہم طاقتیں ہیں جبکہ دنیا میں تیزی کے ساتھ اور طاقتیں بھی ابھر رہی ہیں۔

چینی صدر بھارت کے تین روزہ دورے کے آغاز پر بدھ کو بھارتی ریاست گجرات کے دارالحکومت احمدآباد پہنچے تھے اور اس سے قبل انہوں نے سری لنکا اور مالدیپ کا بھی دورہ کیا۔

XS
SM
MD
LG