چین نے اپنی ’’ایک بچہ فی خاندان‘‘ پالیسی میں نرمی کا عندیہ دے رکھا ہے۔ 2020ء تک کے لیے اصلاحات سے متعلق منصوبے میں اقتصادی حکمتِ عملی کے علاوہ سماجی پالیسیوں میں تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ چین میں ایک بچہ فی خاندان پالیسی 1970ء کی دہائی کے اواخر میں متعارف کروائی گئی تھی۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اگر میاں بیوی میں سے کوئی بھی ایک اپنے والدین کی واحد اولاد ہو تو اُن کا اپنا خاندان دو بچوں پر مشتمل ہو سکتا ہے۔
چین میں ایک بچہ فی خاندان پالیسی میں نرمی کا عندیہ
5
سی ڈی آر ایف نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ 2015ء تک یہ پالیسی ختم کر کے دو بچے پالیسی کا اعلان کریں کیونکہ چین میں معمر آبادی بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے جس کو متوازن کرنے کے لیے ایک بچہ پالیسی کا خاتمہ ضروری ہو گیا ہے۔
6
نئی پالیسی کے مطابق ملک کی آبادی میں توازن کے لیے ایک گھر ایک بچہ پالیسی میں مرحلہ وار تبدیلی لائی جائے گی۔
7
چین میں ایک خاتون اپنی بیٹی کو جھولا جھولاتے ہوئے۔
8
چین آبادی کے لحاط سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔