رسائی کے لنکس

بھارت سرحد پر فوج بڑھا رہا ہے، چین کا الزام


بھارت چین سرحد کا ایک منظر (فائل)

چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ صاف ظاہر ہے کہ بھارت یہ اقدامات کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے نہیں کر رہا ہے۔

چین نے الزام عائد کیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے بعد بھارت متنازع سرحدی علاقے میں اپنے فوجی دستوں کی تعداد میں اضافہ اور سرحد کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی مرمت کر رہا ہے۔

بھارت کی پہاڑی ریاست سکِم کے نزدیک گزشتہ دو ماہ سے جاری سرحدی تنازع کےباعث چین اور بھارت کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں اور خطے میں فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

چینی حکام کے مطابق جون کے اوائل میں بھارت کے سرحدی فورس کے اہلکار بھارتی ریاست سکم سے متصل چین کے سرحدی علاقے ڈونگلانگ میں داخل ہوگئے تھے اور انہوں نے وہاں جاری ایک سڑک کی تعمیر کا کام رکوا دیا تھا۔

بھارتی حکومت کا موقف ہے کہ اس نے چین کو خبردار کیا تھا کہ سرحد پر سڑک کی تعمیر سے دونوں ملکوں کے لیے سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوسکتا ہے اس لیے اس سے گریز کرنا چاہیے۔

واقعے کے بعد سرحدی علاقے میں چین اور بھارت کے فوجی دستوں کے درمیان کئی بار ہاتھا پائی اور منہ ماری ہوچکی ہے جس کے بعدسے سرحد پر صورتِ حال سخت کشیدہ ہے۔

جمعے کو چین کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں الزام لگایا ہے کہ واقعے کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود بھارتی فوج نہ صرف چین کے علاقے میں موجود ہے بلکہ اس کی آڑ میں سرحد کے ساتھ ساتھ اپنے علاقے میں سڑکوں کی تعمیر اور وہاں فوجی دستے اور انہیں درکار ضروری اشیا پہنچانے میں مصروف ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ صاف ظاہر ہے کہ بھارت یہ اقدامات کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے نہیں کر رہا ہے۔

بھارتی حکومت پہلے ہی متنازع سرحدی علاقے میں فوجی دستوں میں اضافے کی تردید کرچکی ہے۔

جمعرات کی شام بھارت کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے بھارتی پارلیمان کو بتایا تھا کہ بھارت تنازع کے پرامن اور دونوں فریقوں کو قابلِ قبول حل کے لیے چین کے ساتھ سفارتی رابطے استعمال کر رہا ہے۔

ایک دوسرے بیان میں چین کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ چینی فوج نے کشیدگی کے بعد خیرسگالی کے جذبے اور ہر ممکن برداشت کا مظاہرہ کیا ہے لیکن بیان کے مطابق "برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور بھارت کو کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔"

بھارتی حکام کا موقف ہے کہ تنازع کے آغاز سے دونوں جانب کے تین، تین سو فوجی ایک دوسرے سے صرف 150 میٹر کے فاصلے پر مورچہ زن ہیں اور صورتِ حال کسی بھی وقت مزید خراب ہوسکتی ہے۔

بھارت اور چین کے درمیان سرحد 3500 کلومیٹر طویل ہے لیکن اس کے بیشتر حصے پر دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازع پر 1962ء میں ایک مختصر جنگ بھی ہوچکی ہے جس میں چین کو فتح ہوئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG