رسائی کے لنکس

logo-print

مسعود اظہر سے متعلق بھارت کے تحفظات دور کئے جائیں گے، چینی سفیر


کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر۔ فائل فوٹو

بھارت میں تعینات چین کے سفیر نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کی طرف سے شدت پسند تنطیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا معاملہ حل ہو جائے گا۔

چینی سفیر کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چین نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی تجویز کو ایک بار پھر بار تکنیکی بنیادوں پر التوا میں ڈال دیا۔ یا درہے کہ گزشتہ ماہ بھارت کے زیر انتطام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی سیکورٹی فورسز کے ایک قافلے پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری جیش محمد کی طرف سے قبول کرنے کے دعویٰ کے بعد فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے مسعود اظہر کا نام سلامتی کونسل کی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز دی تھی جسے چین نے تکنیکی بنیادوں پر التوا میں ڈال دیا ہے۔

بھارتی خبررساں ادارے ' اے این آئی 'کے مطابق چینی سفارت کار سے جب اتوار کو نئی دہلی میں چین کے سفارت خانے میں منعقد ہونے والی ایک تقریب کے موقع پر یہ پوچھا گیا کہ چین نے سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کا نام عالمی دشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز کو تکنیکی بنیادوں پر التوا میں کیوں ڈال دیا ہے؟ اس پر چین کے سفیر لو ژاؤ ہوئی نے کہا کہ بیجنگ اس معاملے پر نئی دہلی کے تحفظات سے آگاہ ہے اور ان کے بقول یہ ایک تکنیکی التوا ہے کیونکہ اس معاملے پر مشاورت کے لیے مزید وقت درکار ہے اور انہیں یقین ہے کہ معاملہ حل ہو جائے گا۔

چین کی طرف سے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی تجویز چین کی طرف سے گزشتہ ہفتے روک دینے پر بھارت نے افسوس کا ظہار کیا تھا۔ تاہم چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے وضاحت کی کہ بیجنگ اس معاملے کو مناسب طریقے سے حل کرنے کے لیے بھارت سمیت تمام متعلقہ فریقوں سے رابطہ تیز کر دے گا اور بعض تجزیہ کاروں نے چینی سفارت کار کے بیان کو متوازن قرار دیتے ہوئے اسے بھارت کی ناراضگی کو دور کرنے کی کوشش قراردیا ہے۔

بین الاقوامی امورکے ماہر ظفر جسپال نے پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ" میرا خیال یہ ان کا متواز ن بیان ہے جو بظاہر بھارتی ناراضگی دور کرنےکی کوشش ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ تصدیق بھی کر دی ہے کہ پاکستان کی حکومت کالعدم شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں سنجیدہ ہے اور اس حوالے سے نئی دہلی کے تحفظات کو دور کیا جائے گا۔"

ظفر جسپال نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیا میں چین کے اسٹریٹجک اور تجارتی مفادات کے پیش نظر چین بعض دیگر ملکوں کی طرح بھارت اور پاکستان پر اپنے دو طرفہ تعلقات بات چیت سے حل کرنے پر زور دیتا آ رہا ہے۔

" چین کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات ہیں اور بھارت ان کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اس لیے خطے میں امن ہو گا تو وہ چین کے مفاد میں ہو گا۔ اگر خطے میں کشیدگی رہے گی تو اس کی وجہ سے چین کے مفاد متاثر ہو سکتے ہیں۔ "

تجزیہ کار ظفر جسپال کے بقول اسی لیے چین کوشش کرے گا کہ خطے میں امن رہے اور بھارت اور پاکستان مذاکرات کے ذریعے اپنے معاملا ت حل کریں۔

دوسری طر ف پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیر کو چین کے تین روزہ دورے پر بیجنگ پہنچنے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اپنے تمام دیرینہ معاملات بات چیت سے حل کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں قیام امن اور اپنے تمام ہمسایہ ممالک بشمول بھارت کے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG