رسائی کے لنکس

زمین کے فولادی چاند محل کی زندگی


چاند کے فولادی محل میں چینی طالب علم پتوں سے آکسیجن حاصل کرنے کے تجربات کررہے ہیں۔ 9 جولائی 2017

خلائی بینکر ' چاند محل 365' کے متعلق چینی سائنس دانو ں کا خیال ہے کہ وہ خلابازوں کو لامحدود مدت کے لیے  وہاں رہنے کے قابل بنا دے گا۔

چین کے شہر بیجنگ کے ایک مضافاتی علاقے میں قائم یونیورسٹی کے چند طالب علم دو فولادی بینکروں میں بند ہو کر یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ اگر انہیں کسی دوسرے سیارے پر جا کر اپنے خلائی اسٹیشن میں زندگی گذارنی پڑی تو اس کے لیے انہیں کیا کچھ کرنا پڑے گا اور وہ زندگی کیسی ہو گی۔

نوجوان طالب علم یہ تجربہ اپنے ایک پراجیکٹ کے لیے کر رہے ہیں جس کا مقصد ایک ایسے ماحول کا بندوبست کرنا ہے جس میں انہیں زندہ رہنے کے لیے باہر سے کسی چیز کی ضرورت نہ پڑے اور وہ اپنے لیے تمام چیزیں خود ہی پیدا کر سکیں۔

بیجنگ یونیورسٹی کے طالب علموں کے اس پر اجیکٹ کا نام ' چاند محل نمبر 1 ' ہے۔ خلائی سائنس کے شعبے سے تعلق رکھنے والے چار طالب علم اتوار کے روز اس فولادی محل میں داخل ہوئے جہاں وہ ایک ایسے ماحول میں اپنے 200 دن گذاریں گے کہ اپنے زندہ رہنے کے لیے انہیں تمام بندوبست اس بینکر کے اندر رہتے ہوئے خود کرنا پڑے گا ۔

اپنے اس تجربے کے دوران انہیں پیشاب سمیت ہر چیز کو دوبارہ استعمال کرنے کے عمل سے گذرنا پڑے گا۔

فولادی کپسول میں داخل ہونے والے پی ایچ ڈی کے ایک طالب علم لیو گوانگوئی کا کہنا تھا کہ یہ ان کی زندگی کا انتہائی منفر د تجربہ ہے۔

چین کے صدر ژی جن پنگ چین کو خلائی تحقیق کے عالمی لیڈر کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور وہ اگلے سال تک چاند کے اس حصے میں پہلا خلائی راکٹ بھیجنا چاہتے ہیں جو ہمیشہ تاریک رہتا ہے۔ اور پھر سن 2036 تک ان کا پروگرام چاند پر خلاباز اتارنے کا ہے۔

خلائی بینکر ' چاند محل 365' کے متعلق چینی سائنس دانو ں کا خیال ہے کہ وہ خلابازوں کو لامحدود مدت کے لیے وہاں رہنے کے قابل بنا دے گا۔

بیجنگ یونیورسٹی کے خلائی شعبے کے ایک پروفیسر لیو ہوہونگ جو اس پراجیکٹ کے خالق بھی ہے، کہتے ہیں کہ اس منصوبہ بندی کے دوران ہر اس چیز کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا جس کی انسان کو ایک غیر زمینی ماحول میں لامحدود مدت کے لیے جینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس سے قبل یونیورسٹی کی ایک اور طالبہ لیو ہیوئی ' چاند محل نمبر 1 ' میں 60 دن گذار چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دوران وہ اداسی محسوس کرتی تھیں۔

پراجیکٹ پر کام کرنے والی ٹیم کو اس تجربے سے یہ جاننے میں مدد ملی ہے کہ فولادی چاند محل میں اپنے قیام کے دوران وہ کون سے کام ہیں جنہیں کرنے سے انسان خوش رہ سکتا ہے اور اداسی محسوس نہیں کرتا۔

دو سو دنوں کے اس پراجیکٹ میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ 200 دنوں تک سورج کی روشنی نہ ملنے سے انسان کی زندگی پر کیا اثرات پڑتے ہیں۔

ٹیم کے ایک رکن پروفیسر لیو کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ہم یہ تجربات جانوروں پر کر چکے ہیں اور اب یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس کا انسانوں پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG