رسائی کے لنکس

کیا پانچ برسوں میں چین خلائی تحقیق میں امریکہ سے آگے نکل جائے گا؟


چین کے خلابازشین زو 12 راکٹ کے ذریعے خلائی سفر پر روانہ ہو رہے ہیں۔ جون 2021
چین کے خلابازشین زو 12 راکٹ کے ذریعے خلائی سفر پر روانہ ہو رہے ہیں۔ جون 2021

فلکیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مارچ کی 4 تاریخ کو ایک چینی راکٹ چاند کی سطح سے ٹکرا سکتا ہے۔ متوقع حادثے کی خبر ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب بیجنگ کی جانب سے بیرونی خلا کی ترقی اور پیش رفت کے پانچ سالہ منصوبے کا ایک خاکہ پیش کیا گیا ہے جس میں سیٹلائٹس، خلا میں مزید گہرائی تک جانے اور مزید لوگوں کو مدار میں بھیجنے کا ذکر ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین، اپنے راکٹ کے متوقع حادثے کے باوجود بیرونی خلا میں پیش رفت کے بہت سے اہداف اپنے پانچ سالہ منصوبے کے دوران حاصل کر سکتا ہے ۔

چین کے خلائی پروگرام کو خاص طور پر خلائی ٹیکنالوجی کو تجارتی مقاصد کے استعمال کے حوالے سے، روس اور امریکہ کے خلائی پروگراموں کے حریف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

ٹیل گروپ مارکیٹ انیلیسز فرم کے خلائی شعبے کے ڈائریکٹر مارکو کیسرز کا کہنا ہے کہ "چین کو بڑھتی ہوئی مسابقت کے تناظر میں سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے"۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ" اگرچہ اس سلسلے میں امریکہ چین جیسے ملکوں سے آگے ہے، لیکن ان کی معیشتیں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں اور وہ اس تک پہنچنے والے ہیں"۔

شین زو 12 مشن میں جانے والا ایک چینی خلاباز، ایک لیبارٹری میں کام کر رہا ہے جسے چینی خلائی اسٹیشن میں نصب کیا جانا ہے۔ 20 اگست 2021
شین زو 12 مشن میں جانے والا ایک چینی خلاباز، ایک لیبارٹری میں کام کر رہا ہے جسے چینی خلائی اسٹیشن میں نصب کیا جانا ہے۔ 20 اگست 2021

ماضی سے مستقبل کا سفر

چین نے اپنا پہلا سیٹلائٹ 1970 میں خلا میں بھیجا تھا اور اپنا پہلا خلاباز 2003 میں خلا میں اتارا تھا جس سے وہ یہ سنگ میل عبور کرنے والا روس اور امریکہ کے بعد دنیا کا تیسرا ملک بن گیا۔

2019 میں، چین کے ایک خلائی جہاز نے چاند کے ایک دور افتادہ حصے میں تاریخی لینڈنگ کی اور اب بیجنگ اس سال کے آخر میں خلا میں اپنے " تیانگونگ" خلائی اسٹیشن کو فعال کرنے کے مراحل طے کر رہا ہے۔

امریکہ کے اپنے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر چین کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے استعمال سے خارج کر دیا گیا ہے ۔ اس خلائی اسٹیشن کی سرگرمیوں کے لیے یورپ، امریکہ، روس، جاپان اور کینیڈا تعاون کرتے ہیں۔

چین کے خلائی پروگرام "اے 2021 کا تناظر" کے مطابق اگلے پانچ برسوں کے دوران بیجنگ خلامیں سائنسی تحقیق، مریخ پر اپنی تحقیق مکمل کرنے اور نظام شمسی کے ایک سیارے مشتری کے بارے میں اپنی تحقیق کے لیے طویل مدتی خلائی سرگرمیاں جاری رکھے گا۔

پانچ سالہ منصوبے کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ آنے والے نصف عشرے میں خلا میں نقل و حمل کے نظام کی صلاحیت میں بہتری لائی جائے گی، اور چین، دور سے کھوج لگانے، ابلاغ و ترسیل، نیوی گیشن اور سیٹلائٹ پوزیشننگ ٹیکنالوجیز کے انضمام کے ذریعے "اپنے خلائی بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے کا عمل جاری رکھے گا"۔

چین اپنے خلائی اہداف حاصل کر سکتا ہے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین ممکنہ طور پر اپنے پانچ سالہ اہداف کو حاصل کر لے گا کیونکہ وہ ان پر ایک عشرے یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے کام کر رہا ہے، جس کے لیے اسے بڑے پیمانے پر سرکاری فنڈنگ حاصل ہے۔

واشنگٹن میں قائم ایک غیر منافع بخش تحقیقی ادارے،" ڈیفنس بجٹ پروجیکٹ" کے دفاعی تجزیہ کار، رچرڈ بٹزنگر کا کہنا ہے کہ خلائی منصوبوں سے متعلق چین کی جنوری کی رپورٹ ان چیزوں کو مؤثر انداز میں یکجا کرتی ہے جو پہلے سے ہی ایک واضح شکل میں سامنے آ رہی ہیں ۔ بٹزنگر کا مزید کہنا تھا کہ یہ تکنیکی طور پر ممکن ہے کہ چین کسی سیارچے سے کوئی دھات حاصل کرنے کے لیے کھدائی کرسکے، اگرچہ اس کے لیے پیچیدہ عمل اور آلات کی ضرورت ہو گی۔

چین کے خلائی منصوبے کے اہداف بدستور پرامن مقاصد کے لیے ہیں جب کہ واشنگٹن کو خدشہ ہے چین اپنے خلائی پروگرام کو فوجی مقاصد کے حصول کی جانب لے جا سکتا ہے۔

خلائی تحقیق کے تجارتی شعبے پر اثرات

تجزیہ کار کیسرز کہتے ہیں کہ چینی خلائی پروگرام میں ہونے والی پیش رفت نے چین کو مارکیٹنگ سیٹلائٹ اور جدید لانچ سروسز میں امریکہ سے زیادہ "جارحانہ" بنا دیا ہے۔ اس شعبے میں چین کے بجٹ میں شاید ناسا کے بجٹ کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چین کا تیار کردہ خلائی سامان افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں نظر آتا ہے۔

آسٹریلیا اور جاپان جیسے ممالک پہلے ہی قدرتی آفات کا شکار ہونے کے بعد سے چین کا تیار کردہ خلائی ریموٹ سینسنگ ڈیٹا استعمال کرتے ہیں۔

روس اور چین نے ستمبر میں چاند پر تحقیق کے لیے ایک مشترکہ تحقیقی مرکز قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

جنوبی ایشیائی ممالک اور چین

وائس آف امریکہ کے رالف جیننگ کے مطابق واشنگٹن میں قائم چینی سفارت خانے نے بدھ کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ "چین تمام ممالک سے عالمی برادری کے مشترکہ مستقبل کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرنے اور بیرونی خلا میں برابری، باہمی مفاد، پرامن استعمال اور جامع ترقی کی بنیاد پر گہرائی سے تبادلے اور تعاون کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔"

سنگاپور میں قائم ایس راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ایلن چونگ کہتے ہیں کہ اس کے باوجود کہ چین اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی شدید خواہش رکھتا ہے، جغرافیائی طور پر چین کے قریب ترین ممالک میں سے کچھ کے پاس اب بھی امریکی خلائی ٹیکنالوجی موجود ہے۔

مثال کے طور پر، امریکہ میں قائم سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹدیز کے مطابق میانمار کی حکومت بنیادی ڈھانچے کے قرضوں اور ایسے منصوبوں پر چین سے ناراض ہے جنہیں لوگ اپنی زندگی سے غیر متعلق سمجھتے ہیں ۔

چونگ نے کہا، "میرے خیال میں صورت حال غیر واضح ہے۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ جنوب مشرقی ایشیا ابھی تک چین کے دائرہ اثر میں سکون سے ہوگا، بلاشبہ گزشتہ 15 برسوں کے دوران چین کے ساتھ حالات کبھی بھی دوستانہ نہیں رہے ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ امریکہ کے لیے کھیل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔"

XS
SM
MD
LG