رسائی کے لنکس

logo-print

تنظیم کا کہنا ہے کہ زبردستی منتقل کیے جانے والے بہت سے لوگ اب غیر موزوں اور نامناسب حالات میں زندگی گزار رہے اور اس تبدیلی سے ان کی مالی حالت بھی متاثر ہوئی ہے

انسانی حقوق کی ایک عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ چین حکومت کی طرف سے نو آباد کاری کے سلسلے میں تبت کے لاکھوں باشندے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

ہیومین رائٹس واچ نے ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ خودمختار علاقے تبت میں بیجنگ کی طرف سے ’’نئی سوشلسٹ آبادی‘‘ کے نام سے یہاں شروع کیے گئے منصوبے کے باعث یہاں کا ثقافتی طرز زندگی ’’ بری طرح سے تبدیل‘‘ ہو رہا ہے۔

تنظیم کے مطابق 2006ء سے تبت کے تقریباً 20 لاکھ سے زائد باشندوں کو حکومتی احکامات پر اپنا گھر چھوڑ کر نئی جگہ آباد ہونا پڑا۔

چین کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے تبت کے باشندوں کا طرز اور معیار زندگی بہتر بنانے میں مدد مل رہی ہے۔

حکام نے زبردستی بے دخلی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے اس بات پر زور دیا ہے کہ نو آبادکاری صریحاً رضاکارانہ طور پر ہو رہی ہے اور تبت کے لوگ اس نئے منصوبے پر شکر گزار ہیں۔

لیکن ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اسے ایسے بہت سے لوگ ملے ہیں جنہوں نے اپنا گھربار رضاکارانہ طور پر تبدیل نہیں کیا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ زبردستی منتقل کیے جانے والے بہت سے لوگ اب غیر موزوں اور نامناسب حالات میں زندگی گزار رہے اور اس تبدیلی سے ان کی مالی حالت بھی متاثر ہوئی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چین میں امریکی سفیر گیری لوک تبت کے تین روزہ دورے پر ہیں اور وہ یہاں کے رہائشیوں سے ملاقات میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔

بیجنگ میں امریکی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ 2010ء کے بعد یہ کسی بھی امریکی سفیر کا تبت کا پہلا دورہ ہے۔
XS
SM
MD
LG