رسائی کے لنکس

logo-print

چین: دو بچے فی خاندان پالیسی سے افردی قوت میں اضافہ متوقع


پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ رواں صدی کے وسط تک چین میں ہر تین میں سے ایک شخص 60 سال سے زائد عمر کا ہوگا۔

چین میں عہدیداروں نے توقع کا اظہار کیا ہے کہ ایک بچہ فی خاندان پالیسی کے خاتمے سے 2050ء تک ملک کی افرادی قوت میں تین کروڑ لوگوں کا اضافہ ہو گا۔

صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کے قومی محکمے کے ترجمان وانگ پیان نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ دو بچے پیدا کرنے کی اجازت پر مبنی پالیسی کے نافذ العمل ہونے کے بعد تقریباً نو کروڑ لوگ اس سے استفادہ کرنے کے قابل ہوں گے۔

توقع ہے کہ یہ پالیسی موسم بہار میں متعارف کروائی جائے گی اور وانگ کے بقول متوقع طور پر اس سے استفادہ کرنے والی خواتین کی نصف تعداد چالیس کے پیٹے میں ہو گی۔

چین میں بڑھتی ہوئی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے 1970ء کی دہائی میں ایک بچہ فی خاندان کی پالیسی نافذ کی گئی تھی لیکن اب اسے اس بنا پر فرسودہ تصور کیا جا رہا ہے کہ ملک میں نوجوان افرادی قوت کم ہے جب کہ دنیا کی اس بڑی اقتصادی قوت میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ رواں صدی کے وسط تک چین میں ہر تین میں سے ایک شخص 60 سال سے زائد عمر کا ہوگا۔

وانگ کا کہنا تھا کہ "نئی پالیسی کے نافذ العمل ہونے سے آبادی کے اس فرق میں بہتری ممکن ہو سکے گی۔''

XS
SM
MD
LG