رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ، چین معاشی تناؤ میں قدرے کمی پر رضامند


امریکی وزیر برائے خزانہ ٹِموتھی گائٹنر نے کہا ہے کہ امریکی اور چینی عہدے داروں نے بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران کچھ معاشی معاملات کو سلجھانے میں پیش رفت حاصل کی ہے، جِن کے باعث تعقات کھچاؤ کا شکار رہے ہیں۔

گائٹنر نے بتایا کہ چین نے اپنی گھرو ایجادات کی پالیسی میں تبدیلی لانے کے لیے اقدام لیے ہیں، جِن کے تحت اُن کمپنیوں کو حکومتی ٹھیکوں کی صورت میں انعامات سے نوازا جائے گا جو چین کے اندرتیکنالوجی تیار کیا کریں گے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ یہ پالیسی امریکی کمپنیوں کی چینی منڈیوں تک رسائی کو محدود کرتی ہے۔

گائٹنر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ اِس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہیں جِس کے باعث وہ امریکی کمپنیاں جو چین کو برآمد کرتی ہیں اور چین میں کام کرتی ہیں اُنھیں برابر سطح کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

یہ بات چیت اُنھوں نے منگل کے روز چینی دارالحکومت میں دو روزہ سٹریٹجک اور معاشی ڈائلاگ کے اختتام پر کی۔

گائٹنر نے کہا کہ مکالمے کے عمل کے ذریعے چین کی معاشی پالیسیوں پر امریکہ کے سارے خدشات حل نہیں ہوئے۔ لیکن بتایا کہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں کے دوران دونوں ممالک معاملات پر مزید بات چیت جاری رکھیں گے۔

چینی اور امریکی عہدے داروں نے چین کی قدرتی گیس کی صنعت کو ترقی دینے، اور عالمی مالیاتی بحران سے دنیا کے ملکوں کی بحالی اور استحکام دلانے کے ضمن میں تعاون پر رضامندی کا اظہار بھی کیا۔

چینی نائب وزیر اعظم وانگ قی شان نے مذاکرات کو کامیاب قرار دیا۔

خزانے کے امریکی وزیر نے چینی طلبا کے ایک اجتماع سے خطاب میں کہا کہ اوباما انتظامیہ بجٹ کے بھاری خسارے کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

XS
SM
MD
LG