رسائی کے لنکس

logo-print

خراب ترین فضائی آلودگی کے شکار شہروں میں پشاور پہلے نمبر پر


Pakistan Climate

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے باعث فضائی آلودگی میں اس قدر اضافہ ہو گیا ہے کہ مختلف ممالک کے بہت سے شہروں میں اس کے باعث پھیپھڑے کے سرطان اور عارضہ قلب کے واقعات میں شدید اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

فضائی آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں موجود ہیں اور فضا میں آلودگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اُس سے صحت عامہ کیلئے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں اور لوگوں کیلئے سانس لینا دشوار ہو گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) مختلف شہروں کے اوپر موجود ہوا کے معیار کی جانچ کرتا رہتا ہے اور پھر آلودگی کی کثافت کے مطابق متاثرہ شہروں کی درجہ بندی کرتا ہے۔ ادارہ ہوا کی کثافت کو صفر سے 10 کے پیمانے پر پرکھتا ہے۔ اس جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا کے 25 شہر فضائی آلودگی سے بہت زیادہ متاثر ہو چکے ہیں جن میں باعث وہاں کے شہریوں کیلئے خطرناک بیماریوں کے امکانات بہت بڑھ گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شہروں کی فضا خراب ہونے کی وجہ تیزی سے ہونے والی صنعتی ترقی ہے کیونکہ فیکٹریوں سے بلند ہونے والا دھواں اور مضر صحت گیسوں کے اخراج سے فضا میں نا صرف دھند سی چھائی رہتی ہے بلکہ ہوا کا معیار بھی انتہائی خراب ہو جاتا ہے۔

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ صنعتی اور اقتصادی ترقی فضائی آلودگی اور صحت عامہ کی خرابی کا باعث بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو تین دہائیوں میں ترقی یافتہ اقوام نے ماحولیات پر منفی اثرات کو کم سے کم کرنے کے سلسلے میں صنعتوں پر سخت پابندیاں عائد کرنی شروع کر دی ہیں تاکہ وہ قدرتی ماحول کو خراب نہ کریں۔ تاہم بعض شہروں میں پیداواری صنعتوں اور اُن کے نتیجے میں بڑھنے والے درمیانے طبقے کی وجہ سے فیکٹریوں اور گاڑیوں سے زہریلی گیسوں کے اخراج میں ہونے والے اضافے کے سبب فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہونے لگا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سروے کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ کثیف ہوا کا شکار شہر بھارت کا کانپور ہے جہاں ہوا کی کثافت 173 مائکرو گرام فی کیوبک میٹر تک پہنچ چکی ہے۔ دوسرے نمبر پر بھی بھارت کا شہر فرید آباد ہے جہاں ہوا میں کثافت کی مقدار 172 ریکارڈ کی گئی ہے۔ بھارت ہی کے شہر ورناسی 151 ، گیا 149 ، پٹنا 144، دہلی 143 ، لکھنؤ 138 ، کیمرون کا شہر بیمنڈا 132 ، بھارت کا آگرہ 131 اور مظفر پور 120 مائکروگرام کے ساتھ بالترتیب تیسرے ، چوتھے، پانچویں، چھٹے، ساتویں، آٹھویں، نویں اور دسویں نمبر پر ہیں۔

آلودگی کے تناسب سے پاکستان کے شہر پشاور کی فضائی آلودگی ڈبلیو ایچ او کے مقرر کردہ پیمانے سے 11.1 گنا زیادہ ہے اور یہ شہر اس فہرست میں دنیا کا آلودہ تین شہر قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ روالپنڈی دوسرے اور لاہور آلودہ شہروں کی فہرست میں 25ویں نمبر پر ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG