رسائی کے لنکس

logo-print

شہریت میں تبدیلی کا قانون بھارتی آئین سے متصادم ہے، اسدالدین اویسی


بھارتی لوک سبھا کے رکن اور آل انڈیا اتحادالمسلمین کے صدر اسدالدین اویسی (فائل فوٹو)

بھارتی پارلیمنٹ کے رکن اسدالدین اویسی آل انڈیا اتحاد المسلمین کے صدر ہیں۔ بھارت میں حال ہی میں پاس ہونے والے شہریت ترمیمی بل پر لوک سبھا میں اسد الدین اویسی نے شدید تنقید کی تھی اور اسے متنازعہ قرار دیا تھا۔ اس بل کے قانون بننے کے بعد سے بھارت بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

وائس آف امریکہ کے واشنگٹن اسٹوڈیوز سے صبا شاہ خان نے دہلی میں موجود اسد الدین اویسی سے شہریت میں ترمیم کے اس متنازع قانون کے حوالے سے ان کی رائے لی۔

سوال: اویسی صاحب بھارت کے ہوم منسٹر امیت شاہ نے راجیہ سبھا میں اراکین کو یقین دلایا تھا کہ شہریت ترمیمی بل آئین کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور اس سے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ یہ شہریت لینے والا بل نہیں، شہریت دینے والا بل ہے تو پھر اس بل کی اتنی مخالفت کیوں؟

اسدالدین اویسی​:

وطن عزیز کے جو وزیر داخلہ ہیں، ان کا جو قانون کے بارے میں علم ہے وہ ایل۔ایل۔بی کے سیکنڈ ایئر لاء گریجویٹ کے برابر بھی نہیں تو اس پر جتنا ہم کم بولیں اتنا بہتر ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جتنے قانون کے ماہرین اور ریٹائرڈ ججز ہیں، انہوں نے باضابطہ کہا ہے کہ یہ شہریت بل جو آج قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے، ہندوستان کے آئین کے بنیادی حقوق کی کھلی مخالفت کرتا ہے اور جہاں مساوات کے معیار کی بات آئے گی اور مساوات کا مقابلہ ہو گا مذہب کے ساتھ، تو ہمیشہ برابری اور مساوات کو سبقت ہوگی۔ یہ تو بنیادی بات ہے۔ سپریم کورٹ کے کئی فیصلے اس پر موجود ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ آئین کے خلاف اس لئے بھی ہے کیونکہ ہمارے ملک بھارت میں شہریت کے دو قوانین نہیں ہوسکتے۔ آپ جو شمال مشرق کا علاقہ ہے اس کو تقریبا مستثنیٰ رکھ رہے ہیں اس قانون سے اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان کے آئین میں شیڈیول چھ کے جو علاقے ہیں اور جہاں انر لائن پرمٹ لینا پڑتا ہے، وہاں ان لوگوں کو اگر شہریت مل بھی جائے گی تو وہ وہاں نہیں ٹھہرسکیں گے۔ لیکن یہ سراسر غلط ہے۔

تیسری بنیادی وجہ یہ ہے کہ جیسا آپ نے سوال کیا تھا کہ وزیر داخلہ نے راجیا سبھا میں یا لوک سبھا میں کہا تھا کہ مسلمانوں کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو مسلمانوں کو یقیناً فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ یہ جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا اخبار میں ایک بڑے بینر آئٹم کے ساتھ خبر لگی تھی، جس میں یہ کہا گیا کہ آسام میں جو این آر سی ہوا تھا ، سپریم کورٹ نے باضابطہ اس کی پوری مانیٹرنگ کی ۔ وہاں بی جے پی کے منسٹر ہیمنتا بسوا شرما کا بیان چھپا کہ پانچ لاکھ چالیس ہزار ہندو بنگالی ہیں ۔ انہوں نے آن ریکارڈ کہا کہ سی ۔اے۔ بی جب قانون بن جائے گا، شہریت میں تبدیلی کا قانون بن جائے گا تو ان پانچ لاکھ چالیس ہزار ہندو بنگالیوں کو ہندوستان کی شہرت مل جائے گی اور ان پر جو مقدمہ چل رہا ہے، آج جو بل قانون بن چکا ہے، سکشن سکس کہتا ہے کہ جتنے کیسز چلیں گےٹرائبیونل میں وہ منسوخ ہوجائیں گے۔ تو اس میں کس پر مقدمہ چلے گا ؟ صرف مسلمانوں پر چلے گا۔ اب عنقریب پورے بھارت میں این آر سی ہوگا اور مثال کے طور پر اگر کسی مسلمان کا نام نہیں آیا اور ایک غیرمسلم کا نام نہیں آیا، تو غیر مسلم کو تو آپ شہریت ترمیمی قانون کے ذریعے ہندوستان کی شہریت دے دیں گے لیکن مسلمان کو بے ریاست کر دیں گے ۔

سوال: ​

شہریت کے بل کو آپ نے کالا قانون کہا جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ملک میں غیر قانونی داحلے کو روکے گا، آپ کیا کہتے ہیں؟

اسدالدین اویسی​:​

ارے اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ ساڑھے پانچ سال سے ان کی حکومت ہے، آپ نے کتنوں کو ملک بدر کیا۔ بتائیے بمشکل پچاس لوگوں کو بھی ملک بدرنہیں کیا۔ اب رہا سوال ملک میں غیر قانونی داخلے کا تو آپ ہی بتائیے کہ یہ کیسے ہو رہا ہے؟ جب آپ کی سرکارہے، اگر ہو بھی رہا ہے تو، انفلٹریشن نہیں ہورہا ہے۔ ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بنگلہ دیش کی معیشت بھارت کی معیشت سے زیادہ ترقی کر رہی ہے ۔ ان کا جی ڈی پی اس وقت میرے خیال میں سات یا آٹھ فیصد کے برابر ہے۔​انفلٹریشن اگر آپ کا ہورہا ہے تو ذمہ دار تو آپ ہیں نا۔ بی جے پی نے یہ بھی کہا تھا کہ آسام ایکارڈ کے قائل ہیں۔ آسام ایکارڈ میں شہریت کی ایک تاریخ ہے اور یہاں پر ایک تاریخ ۔۔ یہ تو تضاد ہے ۔ بی جے پی کے الیکشن مینی فیسٹو میں اور وہ جو کر رہے ہیں، ان کی تمام چیزیں سامنے آرہی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ پورے بھارت میں پوری عوام کے سامنے بے نقاب ہوں گے۔

سوال:

ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ انڈیا کے مسلمانوں کو سیاستدان تو ملے لیکن کوئی ایسا لیڈر نہیں ملا جو ان کے حق کے لیے لڑ سکے ۔آپ کیا کہتے ہیں؟

اسدالدین اویسی​:

دیکھئے ہندوستان کے مسلمانوں کو لیڈر نہیں ملا۔ تو یہ تو ہندوستان کے مسلمانوں نے خود ہی فیصلہ لیا تھا ۔ کیونکہ لکھنؤ میں جو تاریخی اجلاس ہوا تھا اس تاریخی اجلاس میں یہ فیصلہ لیا گیا تھا کہ مسلمان کوئی سیاسی پارٹی نہیں بنائیں گے۔

وہ فیصلہ جو ہمارے بزرگوں نے لیا ، بڑی عزت کے ساتھ کہنا چاہوں گا، وہ غلط تھا۔ کیونکہ جمہوریت میں صرف ووٹ ڈالنا آپکا کام نہیں ہے۔ بلکہ ووٹ ڈالنے کے ساتھ ساتھ آپ کو اپنی پسند کے امیدوار کو بنانے کی ضرورت ہے۔اور بھارت کی جمہوریت کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ جس کے پاس اس کےووٹ سے اس کے منتخب شدہ نمائندے ہیں، انہی کی بات سنی جاتی ہے۔ ان کے مسائل کس حد تک حل کئے جاتے ہیں۔ اور ہندوستان کی جمہوریت یقیناً آئینی جمہوریت ہے، مگر اس کی ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہر طبقے اور ہر ذات کے لوگوں کے عوام نے اپنے اپنے نمائندوں کو چنا، اپنی اپنی قیادت کو بنایا ہے۔ اب یقیناً بھارت کی مسلم اقلیتوں کو بھی اس جانب سوچناہے۔مگر ہم نے تو جس پر بھروسہ کیا انہوں نے ہم کو دھوکہ دیا ہے۔

سوال:​یہ بتائیے کہ اس وقت انڈیا بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں تو کیا یہ محض ہنگامے ہی ہو کر رہ جائیں گے یا آپ متبادل بیانیہ رکھنے والوں کی کوئی تحریک ابھرتے دیکھتے ہیں؟

اسدالدین اویسی​:​

احتجاج کرنا جمہوری حق ہے اور ہندوستان کا آئین آپ کو احتجاج کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اور یقینًا حکومت اس کو روکنا چاہتی ہے مگر احتجاج کرنا ضروری ہے۔ تاکہ پورے ملک میں وطن عزیز کے دیگر اقوام کو دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو معلوم ہو کہ قانون کالا قانون ہے۔

ایسی حماقت ایسی غلطی تو ہمارےآئینی اسمبلی میں بیٹھنے والے بزرگوں نے نہیں کی۔ اب ہندوستان کے وزیراعظم اور وزیرداخلہ کی سوچ اور فکر، ان کی حکمت ، ان بزرگوں سے بڑھ کے تو نہیں ہوسکتی ہے۔ اب رہا سوال کہ کیا کوئی متبادل لیڈرشپ ابھرے گی؟ اور اگر سیاسی پارٹی کے ذمہ دار جو اپنے آپ کو سیکولر کہتے ہیں اگر وہ اس خلا کو پر نہیں کریں گے تو یقیناً یہ قدرت کا نظام ہے کہ ویکیوم نہیں رہے گا۔ ان سے اچھے لوگ آئیں گے اور آگے بڑھیں گے۔

سوال:​

شہریت کا بل پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے پاس ہو چکا ہے۔ کانگریس کے سابق وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ اس بل کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ آپ کا کیا لائحہ عمل ہوگا؟

اسدالدین اویسی​:

ہم بھی قانون کے ماہرین سے مشورہ کر رہے ہیں اور عنقریب ہم اس پر فیصلہ کریں گے۔ مگر جہاں تک عوام کو سمجھانا ہے، ان کے جذبات کی ترجمانی کرنا ہے، وہ بھی ایک بہت اہم کام ہے۔ اور اس سلسلے میں بھی ہماری سیاسی پارٹی مختلف ملی اور تہذیبی تنظیموں کے ساتھ مل کر ایک پروگرام بنائے گی اور انشاء اللہ ملک گیر پیمانے پر ایک احتجاج ہوگا ۔ عوام کو بتلایا جائے گا۔ اب دیکھئے اس کا اتنا برا اثر بھارت پر پڑرہا ہے کہ ہمارے وزیراعظم اور جاپان کے وزیراعظم کی گوہاٹی میں مجوزہ ملاقات کو ملتوی کرنا پڑا کیونکہ آسام اور گوہاٹی میں کرفیو لگا ہوا ہے۔ وہاں کے عوام احتجاج کر رہے ہیں اس قانون کے خلاف۔ یہ بھی تو بڑی شرمندگی کی بات ہے اس حکومت کے لیے۔

سوال:​

اس بل کے ناقدین اس بل کو نسل کشی کا آغاز بھی کہہ رہے ہیں تو حالات یہاں تک کیسے پہنچے؟ اور اس تمام صورتحال میں وہ مسلمان جن کی آوازیں اہمیت رکھتی ہیں وہ خاموش کیوں ہیں؟ جیسے بالی وڈ کے بڑے اداکار؟

اسدالدین اویسی​:

اب دیکھئے میں تو اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں یا کسی سیاسی پارٹی کے بارے میں کہہ سکتا ہوں ۔ مگر یہ جو آپ ان عظیم الشان شخصیتوں کے بارے میں سوال کر رہے ہیں یہ نہیں معلوم یہ کون سے آسمان کے ستارے ہیں۔ میں ان کے بارے میں نہیں کہہ سکتا۔ نہ ان کی ترجمانی کرنے کا مجھے کوئی حق حاصل ہے۔ میں اپنی توہین سمجھتا ہوں ان کے بارے میں بات کرنا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG