رسائی کے لنکس

برطانیہ: ماحولیاتی مظاہرین نے سیکڑوں لیٹر ’مصنوعی خون‘ سڑک پر بہا دیا


’مصنوعی خون‘ پھیلانے کے بعد چاروں کارکنان فائر انجن پر کھڑے ہوگئے اور ایک بینر لہرایا جس پر ’ماحول کے قتل کے لیے پیسے دینا بند کرو‘ کا نعرہ درج تھا

برطانیہ میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیم کے کارکنوں نے محکمہ خزانہ کی عمارت کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے سیکڑوں لیٹر ’مصنوعی خون‘ سڑک پر بہا دیا۔

’ایکسٹینشن ریبیلین‘ نامی تنظیم ماحولیاتی تبدیلیوں سے آگاہی کے لیے کام کرتی ہے۔ جمعرات کو اس تنظیم کے چار کارکنان نے آگ بجھانے والے فائر انجن کا استعمال کرتے ہوئے سڑک اور محکمہ خزانہ کی عمارت پر سرخ رنک کی بارش کر دی۔


خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق کارکنان نے 1800 لیٹر سرخ رنگ سڑک اور عمارت کی سیڑھیوں پر بہایا جس سے پوری سڑک خون کے رنگ میں رنگ گئی۔

’مصنوعی خون‘ پھیلانے کے بعد چاروں کارکنان فائر انجن پر کھڑے ہو گئے اور ایک بینر لہرایا جس پر ’ماحول کے قتل کے لیے پیسے دینا بند کرو‘ کا نعرہ درج تھا۔

بعد ازاں ان کارکنوں نے محکمہ خزانہ کی عمارت کی ایک دیوار پر بھی سیاہ رنگ سے یہی نعرہ درج کر دیا۔

اس موقع پر بین نامی ایک کارکن نے ’رائٹرز‘ کے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمۂ خزانہ ماحولیات کی تبدیلیوں کے خلاف کام کرنے والے دوسرے حکومتی اداروں کی کوششوں کو بھی ناکام بنا رہا ہے۔ کیوں کہ اسے صرف معیشت کی پرواہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمۂ خزانہ یہ نہیں دیکھتا کہ ان کی شرح نمو ماحولیات کی موت کا سبب بن رہی ہے۔

بین نے سرخ رنگ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ رنگ اس بات کی علامت کو ظاہر کرتا ہے کہ دنیا کے جنوب میں لوگ مر رہے ہیں اور اگر ہم نے کچھ نہ کیا تو ماحولیاتی تبدیلیوں سے دنیا بھر میں لوگ مرنے والے ہیں۔

بعد ازاں پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرہ کرنے والے چار افراد کو گرفتار کر لیا۔

واضح رہے کہ ’ایکسٹنکشن ریبیلین‘ نامی تنظیم نے رواں سال اپریل میں بھی لندن میں کئی دنوں تک مظاہرے کیے تھے۔

ان مظاہروں کو برطانیہ کی حالیہ تاریخ میں سب سے بڑی سول نافرمانی کی تحریک کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

ان مظاہروں کے دوران شہر کے مرکزی اور مشہور مقامات کو بلاک کیا گیا تھا اور ٹرینوں کو روک دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG