رسائی کے لنکس

logo-print

موسمیاتی تبدیلیاں نوجوانوں کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر رہی ہیں، تحقیق


کاربن گیسوں کے اخراج سے صرف کرہ ارض کی فضا ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ وہ بالخصوص نوجوانوں کی ذہنی صلاحیتوں پر اثر ڈالتا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے آب و ہوا کی تبدیلی کا مسئلہ پیچھے چلا گیا ہے لیکن اب بھی یہ تبدیلی بہت سے 30 برس سے کم عمر افراد کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث ہے۔

یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا، جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور کینیڈا کی سائمن فریزر یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ ’’موسمیاتی تبدیلی کی بدولت آنے والی تمام قدرتی آفتیں جیسے طوفان، شدید گرمی، جنگلات کی آگ اور سیلابوں کی وجہ سے ذہنی دباؤ، ڈپریشن، پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس اور ذہنی صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔‘‘

برطانوی سائنسی جنرل 'دی لانسینٹ پلینٹری ہیلتھ' میں لکھتے ہوئے تحقیق کے مصنفین نے اس خوف کو ’’ماحول کی وجہ سے ذہنی دباؤ یا موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ‘‘ کا نام دیا ہے۔

دوسرے الفاظ میں 30 برس سے کم عمر افراد کے نظریے سے اگر دیکھا جائے تو مستقبل بہت زیادہ روشن دکھائی نہیں دے رہا۔

یونیورسٹی آف پنسلوینیا کے طالب علم زیئے باسٹیڈا تب سے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف لڑ رہی ہیں جب ان کے آبائی ملک میکسیکو میں سیلاب آیا تھا۔ اس وقت وہ محض 13 برس کی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ان کی زندگی کے لیے بہت اہم لمحہ تھا۔

بقول ان کے کبھی کبھار ہمیں معلوم بھی نہیں ہوتا کہ کب ہم کسی مسئلے کے بارے میں واقعی سوچنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر ہم اس پر عمل کرنے لگتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا سامنا ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اسی وجہ سے انہیں ایک بار اسپتال میں بھی داخل کروانا پڑ گیا تھا۔

ان کے بقول ’’اگر آپ اپنا خیال نہیں رکھ سکتے، اپنے گھر کا خیال نہیں رکھ سکتے، اپنی دیکھ بھال نہیں کر سکتے تو آپ دنیا کی دیکھ بھال بھی نہیں کر سکتے۔‘‘

فائل فوٹو
فائل فوٹو

جارج میسن یونیورسٹی کے سینٹر فار کلائمیٹ چینج کمیونیکیشن (فور سی) کے ڈائریکٹر ایڈورڈ مائی باخ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے خوراک اور قومی تحفظ میں کمی آ رہی ہے، اس سے کم صحت مند اور کم ترقی یافتہ دنیا پیدا ہو رہی ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا ’’اگر دنیا کے ممالک نے اس موجودہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے آج کمر نہ باندھی تو جب حالات خراب ہوں گے تو آج کا نوجوان اس وقت کی دنیا میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گا۔‘‘

لیکن نوجوان اس مسئلے پر توجہ دے رہے ہیں اور تبدیلی کے لیے سرگرم ہیں۔ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف تحریک میں نوجوان آگے آگے ہیں۔

جہاں سویڈن کی گریٹا تھین برگ نے دنیا بھر کی توجہ اس جانب مبذول کروائی ہے وہیں کینیڈا کی آٹم پیلٹئیر جن کا تعلق فرسٹ نیشن کمیونٹی سے ہے، ارجنٹینا کی برونو راڈریگاز، ہیلانا گوالینا اور ایکواڈور کی امازان بھی اس تحریک میں آگے آگے ہیں۔

سویڈن کی آب و ہوا کی تبدیلی کا سرگرم کارکن گریٹا تھنس برگ ایک مظاہرے میں شامل، فائل فوٹو
سویڈن کی آب و ہوا کی تبدیلی کا سرگرم کارکن گریٹا تھنس برگ ایک مظاہرے میں شامل، فائل فوٹو

پیو، بروکنگز اور فور سی کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق 2020 کے امریکی صدارتی انتخاب میں موسمیاتی تبدیلی نوجوان ووٹرز کے لیے تین اہم ترین مسائل میں سے ایک تھا۔

فور سی کے ایڈورڈ مائی باخ کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے نوجوان رہنماؤں نے کئی نسلوں کو اس تحریک میں شامل کر لیا ہے۔

ان کے بقول سیاست دانوں سے لے کر سی ای اوز تک چاہتے ہیں کہ وہ نوجوانوں کو خوش رکھیں، کیونکہ اگر نوجوانوں کے پاس ملازمتیں نہیں رہیں گی تو ان کے پاس بھی نہیں رہیں گی۔

جہاں 1946 سے 1964 کے دوران پیدا ہونے والی نسل کے ووٹوں کا تناسب کم سے کم تر ہو رہا ہے، وہیں نوجوان نسل کے جسے جنریشن زی بھی کہتے ہیں، ووٹوں کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔

مائی باخ کے مطابق اگرچہ کمپنیوں کے سی ای او لوگوں کو جواب دہ نہیں ہیں لیکن آج کل کارپوریشن عوامی رائے کا بہت دھیان کرتے ہیں خصوصاً نوجوانوں کی رائے کا، کیونکہ وہ انہیں ملازمتوں پر رکھنا چاہتے ہیں اور وہ نوجوان صارفین کھونا نہیں چاہتے۔

زئیے باسٹیڈا کا کہنا ہے کہ ’’میرے خیال میں ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہمارے پاس وقت کم ہے۔ اور ہم بس اس بارے میں صرف باتیں ہی نہیں کر سکتے بلکہ ہمیں کچھ کرنا بھی ہو گا۔ ہمیں اس پر کام فوراً شروع کرنا ہوگا۔

اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ واقعی میں کام کر رہے ہیں، جب اس جانب نئے اقدامات کرتے ہیں، جب ہم کمپنیوں کو اپنا سارا کاروباری طریقہ کار تبدیل ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ایسے اقدامات مجھے مستقبل کے لیے پر امید کرتے ہیں۔‘‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG