رسائی کے لنکس

زمین کے درجہ حرارت پر کنٹرول کے نئے منصوبے


نئی دیلی کا ایک گرد آلود دن۔ 16 نومبر 2016

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پراجیکٹ بہت مہنگا ہے لیکن آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے کے اہداف پورے کرنے کے لیے ایسے غیر روایتی طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو تیزی سے کرہ ارض کا درجہ حرارت کم کر سکیں۔

سائنس دان زمین کا درجہ حرارت کم کرنے کے لیے فضا سے کاربن ڈائی اکسائیڈ جذب کرنے اور مصنوعی طریقے سے زمین پر آنے والی سورج کی حدت کم کرنے کے پراجیکٹ پر کام کررہے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پراجیکٹ بہت مہنگا ہے لیکن آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے کے اہداف پورے کرنے کے لیے ایسے غیر روایتی طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو تیزی سے کرہ ارض کا درجہ حرارت کم کر سکیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پیرس معاہدے کے اہداف صرف فیکٹریوں اور موٹر گاڑیوں سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی سے حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کو 2015 کے پیرس معاہدے سے نکالنے کے فیصلے کے بعد اس کا حصول مزید دشوار ہو گیا ہے۔ اب زمین کا درجہ حرارت کم کرنے کے لیے نئے طریقے اختیار کرنا ہوں گے۔

سوئٹرزلینڈ کے شہر زیورخ کے مضافات میں ایک سوئس کمپنی کلائم ورکس کی 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مالیت کی فیکٹری نے مئی میں فضا سے گرین ہاؤس گیسوں کو کھینچنا شروع کر دیا ہے ۔ اس فیکٹری میں دیو قامت پنکھے اور فلٹر لگائے گئے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ تجارتي پیمانے پر کاربن ڈائی اکسائیڈ کھینچنے والا دنیا کا پہلا بڑا پلانٹ ہے۔

دنیا میں ہوا سے براہ رأست کاربن گیسیں کھینچنے والی چند ہی کمپنیاں ہیں جنہیں حکومتوں، مائیکروسافٹ اور یورپی سپس ایجنسی جیسے اداروں سے بڑے پیمانے پر فنڈز مل رہے ہیں۔

ہوا سے بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسیوں کھینچنے سے عالمی درجہ حرارت کو نیچے لانے میں مدد مل سکتی ہے لیکن اس پر بھاری اخراجات اٹھتے ہیں۔

کلائم ورکس تقریباً ایک ٹن کاربن ڈائی اکسائیڈ کھینچنے پر 600 ڈالر صرف کر رہاہے۔ اس سال کے آخر تک یہ پلانٹ جب اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام کرنا شروع کردے گا تو اس وقت وہ 700 ٹن سالانہ کاربن گیسیں کھینچ رہا ہو گا۔ لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ صرف 45 امریکی سال بھر میں 700 ٹن کاربن گیسیں پیدا کرتے ہیں۔

کلائم ورکس اس وقت کاربن ڈائی اکسائیڈ نقصان پر بیچ رہا ہے ۔ کمپنی کے ڈائریکٹر جین ورز بیکر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پیداواری اخراجات 100 ڈالر فی ٹن تک لے آئیں گے اور 2025 تک کاربن گیسوں کے عالمی اخراج میں ایک فی صد تک کمی کر دیں گے۔

آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت کو کم کر کے صنعتی دور کے درجہ حرارت سے دو فی زیادہ کی سطح تک نیچے لایا جائے۔

اقوام متحدہ کے اعداد وشمار یہ ظاہر کرتے ہیں عالمی درجہ حرارت کو بڑھنے سے روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات ناکافی ہیں۔ اور امریکہ کے تعاون کے بغیر تو ان اہداف کا حصول اور بھی مشکل ہے۔

اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کی ایک معروف یونیورسٹی ہارورڈ کے سائنس دانوں نے ایک نئے پراجیکٹ کے لیے 75 لاکھ ڈالر کے عطیات اکھٹے کیے ہیں ۔ اپنے اس منصوبے پر وہ 2018 میں ایری زونا میں اپنے کام کا آغاز کریں گے۔ اس پراجیکٹ کے تحت زمین پر پہنچنے والی سورج کی حرارت کی شدت کم کی جائے گی اور یہ ہدف مصنوعی بادل بنا کر حاصل کیا جائے گا۔

سائنس دانوں کی ٹیم کے قائد ڈیوڈ کیتھ کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم اگلے سال ریاست ایری زونا میں ایک غبارے کے ذریعے کافی بلندی پر ایک کیمیکل کا چھڑکاؤ کرے گی۔ اس عمل سے بننے والے بادل سورج کی حرارت کو براہ رأست زمین پر پہنچنے سے روک دیں گے جس سے اس علاقے کا درجہ حرارت کم ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جیو انجنیئرنگ ہے کوئی افسانہ یا فکشن نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG